حوثی ملیشیا کی صنعاء کے ملازمین کو زبردستی جنگ میں جھونکنے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حوثی باغیوں کی جانب سے یمن میں جاری جنگ میں عام شہریوں کو جھونکنے کی سازشیں جاری ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق حوثی ملیشیا نے دارالحکومت صنعاء کے سرکاری ملازمین کو بھی جنگ کا ایندھن بنانے کی اور انہیں زبردستی محاذ جنگ پر جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حوثی شدت پسندوں کی طرف سے صعناء کے سرکاری اداروں کے ملازمین سے کہا گیا ہے کہ وہ الحدیدہ اور دوسرے شہروں میں جاری لڑائی میں شمولیت اختیار کریں۔

یمن کے ایک ذمہ دار سیکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ حوثی باغیوں نے فوجیوں، ٹریفک پولیس اور پولیس کے دوسرے شعبوں میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کو کئی گروپوں میں تقسیم کیا ہے اور ان کی درجہ بندی کے ساتھ انہیں محاذ جنگ پر جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں کی طرف سے سرکاری ملازمین سے کہا گیا ہے کہ وہ الحدیدہ گورنری اور دوسرے محاذوں پر لڑائی میں حصہ لیں تو ان کی تنخواہ فوری ادا کردی جائے گی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سرکاری سیکیورٹی اداروں کے ملازمین نے حوثیوں کی طرف سے جنگ میں جھونکے جانے کی سازشین مسترد کردی ہیں۔ سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ دو سال سے حوثیوں کے زیرتسلط علاقوں میں اپنی ڈیوٹی بھی انجام دے رہے ہیں مگرانہیں تنخواہیں ادا نہیں کی جا رہی ہیں۔

خیال رہے کہ یمن میں ایران نواز حوثی باغی تیزی کے ساتھ اپنے زیرانتظام علاقوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ باغیوں کی شکست وریخت کی سب سے بڑی وجہ افرادی قلت ہے۔ باغیوں پر بچوں اور خواتین کو بھی جنگ کا ایندھن بنانے کے لیے مختلف حربوں کے استعمال کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں