’مقتدیٰ الصدرعرب ممالک سے متوازن تعلقات کا قیام چاہتے ہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حال ہی میں عراق میں ہونےوالے پارلیمانی انتخابات میں غیرمتوقع طورپر کامیابی حاصل کرنے والے شیعہ مذہبی رہ نما مقتدیٰ الصدر نے اپنا دو روزہ دورہ کویت مکمل کرنے کے بعد واپس روانہ ہوگئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مقتدیٰ الصدر دو دن تک کویت میں رہے جہاں انہوں نے کویتی قیادت سے باہمی دلچسپی کےامور اور دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے پر بات چیت کی۔

بدھ کے روز مقتدیٰ الصدر کی ویب سائیٹ پران کی طرف سےایک بیان شائع کیاگیا جس میں انہوں نے بتایا کہ انہیں کویت کی حکومت کی طرف سے باضابطہ دورے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس دورے میں انہوں نے امیر کویت الشیخ صباح الاحمد الجابر الصباح سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں ملکوں اور اقوام کے درمیان ماضی کی تلخ یادوں کو فراموش کرتے ہوئے ترقی کے سفرمیں مل جل کر آگے بڑھنے پر بات چیت کی گئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتےہوئے الصدر کےدفتر کے ایک عہدیدار نے کہا کہ مقتدیٰ الصدر کے دورہ کویت کا بنیادی مقصد دونوں برادر ملکوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ انہوں نے کہا کہ الصدر تمام ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کے قیام کے خواہاں ہیں۔ وہ خلیجی عرب ملکوں کےساتھ بھی دوستانہ اور برادرانہ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

مقتدیٰ الصدر کے مقرب عہدیدار نے کہا کہ الصدر تمام پڑوسی ملکوں کے ساتھ دوستانہ مراسم کو فروغ دے کر متوازن انداز میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ ان کے دورہ کویت کا مقصد بھی عرب ممالک بالخصوص خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کی راہ ہموار کرنا تھا۔

تجزیہ نگار طارق العبودی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مقتدیٰ الصدر عراق اور سعودی عرب کے درمیان بھی تعلقات کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے گذشتہ برس سعودی عرب کا کامیاب دورہ بھی کیا تھا۔ ان کا حالیہ دورہ کویت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں