بشار الاسد کا ایرانی افسران کی موجودگی کا اقرار ، ایرانی فورسز کے وجود سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے صدر بشار الاسد نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ ایرانی افسران شامی فوج کی مدد کر رہے ہیں تاہم بشار نے اپنے ملک میں کسی بھی ایرانی فورس کی موجودگی کی تردید کی۔ واضح رہے کہ ایرانی ویب سائٹس شام میں ایران کے بھاری جانی نقصانات کا اعلان کرتی رہی ہیں۔

بشار نے حالیہ اسرائیلی حملے میں کسی بھی ایرانی کے ہلاک ہونے کی تردید کی۔ اس نے کہا کہ مارے جانے والے تمام افراد شامی ہیں۔ باوجود یہ کہ ایسی کئی تصاویر سامنے آ چکی ہیں جن میں ایرانی فورسز کو شامی اراضی پر لڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

زمینی کارکنان کے اندازے کے مطابق شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کے 9 ہزار سے زیادہ ارکان موجود ہیں۔ ان کے علاوہ ایران نواز لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے 6 ہزار سے زیادہ ارکان اور پاکستان، افغانستان اور عراق سے شام آنے والے نظریاتی رضا کار بھی ہزاروں کی تعداد میں شام پہنچے ہوئے ہیں۔

شامی حکومت کے سربراہ نے ان تمام اعداد و شمار کو نظرانداز کر دیا۔ بشار الاسد کا بیان درج ذیل معلومات سے متضاد ہے :

1 ۔ اپریل میں حماہ اور حلب کے نواح میں ایرانی فوجی اڈوں پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے 8 ارکان کی ہلاکت۔

2 ۔ شامی اراضی میں ایرانی فورسز کے اہل کاروں کی ہلاکتوں کے اعتراف سے متعلق متعدد ایرانی سرکاری بیانات۔

3 ۔ اپریل میں حمص کے التیفور عسکری ہوائی اڈّے پر اسرائیلی بم باری میں 3 ایرانیوں کی ہلاکت سے متعلق ایرانی نیوز ایجنسی "فارس" کی خبر۔

4 ۔ ایران وقتا فوقتا شام میں مارے جانے والی ایرانی فوجی اہل کاروں کے عوامی سطح پر جنازوں کا انتظام کرتا ہے۔ ان میں جنرل قاسم سلیمانی جیسے نمایاں ایرانی رہ نما شریک ہوتے ہیں۔

5 ۔ بشار نے اسرائیل کی جانب سے شامی حکومت کی فورسز کو نشانہ نہ بنانے کے بدلے ایرانی فورسز کو جنوبی شام سے دُور ہٹانے پر تیار ہونے کا اظہار کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں