.

بشارالاسد روسی صدر پوتین کے مطالبے پر ملیشیاؤں کو کالعدم قرار دے رہے ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد اپنے اتحادی روسی صدر ولادی میر پوتین کے مطالبے پر تمام حکومت نواز ملیشیاؤں کو کالعدم قرار دے دیں گے۔اس ضمن میں ایک صدارتی فرمان کے اجرا کے لیے تیاریاں کی جارہی ہیں ۔

روسی صدر نے سوچی میں بشارالاسد سے اپنی حالیہ ملاقات کے موقع پر حکومت نواز تمام ملیشیاؤں کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔برطانیہ میں قائم شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق نے ہفتے کے روز اس پیش رفت کو غیر متوقع قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ نئے صدارتی حکم کا اطلاق شام کے تمام علاقوں پر ہوگا۔

ذرائع کے مطابق نئے حکومت کے تحت ایران کی پروردہ ملیشیاؤں کو بھی شام سے نکلنا ہوگا۔اس سے ان ملیشیاؤں میں غیظ وغضب پایا جارہا ہے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ اسد رجیم دو آپشن پیش کرے گا : جو ملیشیائیں اس کی وفادار ہیں ،انھیں تمام علاقوں سے واپس بلا لیا جائے گا یا پھر انھیں سرکاری طور پر فوج میں ضم کردیا جائے گا۔

روس نے شامی صدر کے اقتدار کے دفاع کے لیے لڑنے والی ملیشیاؤں کے جنگجوؤں کی حالیہ مہینوں کے دوران میں لوٹ مار کے بعد انھیں کالعدم قرار دینے کی درخواست کی ہے۔ان ملیشیاؤں نے شامی فوج کے مفتوحہ علاقوں میں حالیہ مہینوں میں ہزاروں مکانوں سے تمام مال واسباب لوٹ لیا ہے اور ان کے جنگجو چیک پوائنٹس پر بھی عام شہریوں سے چھینا جھپٹی سے گریز نہیں کرتے رہے ہیں۔

شام میں ایرانی موجودگی کا دفاع

دریں اثناء شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے شام میں ایران کی موجودگی کا دفاع کیا ہے اور اس کو قانونی قرار دیا ہے۔

انھوں نے دارالحکومت دمشق میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ امریکی فوجیوں کو اردن کی سرحد کے نزدیک واقع الطنف کے ہوائی اڈے کو خالی کردینا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ شام جنوبی محاذ سے متعلق کوئی مذاکرات نہیں کررہا ہے۔انھوں نے شام میں ایرانی موجودگی کو قانونی قراردیتے ہوئے کہا کہ وہ شامی حکومت کی درخواست پر یہاں موجود ہے جبکہ شام میں ترک اور امریکی فوجیوں کی موجودگی غیر قانونی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شامی حکومت نے امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز سے روابطہ کیا ہے لیکن ابھی ان سے مذاکرات کا سلسلہ شروع نہیں ہوا ہے۔