.

مملکت کے کون سے علاقے "شاہی ریزرو کونسل" کے مینڈیٹ میں شامل ہوں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ہفتے کے روز رائل کورٹ میں "شاہی ریزرو کونسل" کے قیام کے حوالے سے شاہی فرمان جاری کیا ہے۔

یہ کونسل قدرتی محفوظ مقامات کی ترقی اور پیش رفت کی اہمیت کے پیش نظر قائم کی گئی ہے تا کہ مملکت کے ماحولیاتی اور قدرتی مقامات کو برقرار رکھا جا سکے، فطری زندگی کو پھر سے جِلا بخشی جا سکے اور ماحولیاتی سیاحت کو سرگرم کیا جا سکے۔ ہر محفوظ علاقے کا اپنا مینجمنٹ بورڈ ہو گا اور اس کی ترقی کی نگرانی کے لیے ایک ادارہ ہو گا۔ ہر علاقے کو مالیاتی اور انتظامی خود مختاری حاصل ہو گی۔

شاہی ریزرو علاقوں کے نام اور ان کے انتظامی امور کی مجالس کی تفصیلات درج ذیل ہیں :

1 ۔ ریاض کے شمال میں واقع سرسبز مقام "روضۃ الخریم" اور اس سے ملحقہ علاقے شاہی ریزرو علاقہ ہوں گے۔ اس کا نام "امام عبدالعزیز بن محمد ریزرو" ہوگا۔

2 ۔ مکہ مکرمہ ریجن میں واقع "محازۃ الصید" کا علاقہ شاہی ریزرو علاقہ ہو گا۔ اس کا نام "امام سعود بن عبدالعزيز ریزرو" ہوگا۔

3 ۔ ریاض ریجن کے شمال مشرق میں واقع "التیسیہ" اور اس سے ملحقہ علاقے بھی شاہی ریزرو علاقہ ہوں گے۔ اس کا نام "امام تركی بن عبدالله ریزرو" ہو گا۔

4 ۔ ریاض ریجن میں "التنہات" اور "الخفس" کے سرسبز علاقے اور ان سے ملحقہ دیگر علاقے بھی شاہی ریزرو علاقہ ہوں گے۔ اس کا نام "کنگ عبدالعزیز ریزرو" ہو گا۔

5 ۔ سعودی عرب کے شمال مغرب میں واقع "الخنفہ، الطبيق اورحرة الحرة" کے ماحولیاتی علاقے اور ان سے ملحقہ دیگر علاقے بھی شاہی ریزرو علاقہ شمار ہوں گے۔ اس کا نام "کنگ سلمان بن عبدالعزیز ریزرو" ہو گا۔

6 ۔ نیوم پروجیکٹ اور بحر احمر اور العلا پروجیکٹ کے درمیان واقع علاقہ بھی شاہی ریزرو علاقہ ہو گا۔ اس کا نام "پرنس محمد بن سلمان ریزرو" ہو گا۔

شاہی محفوظ علاقوں کی کونسل کے سربراہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہوں گے۔ دیگر ارکان میں :شہزادہ ترکی بن محمد بن فہد بن عبدالعزيز آل سعود، شہزادہ محمد بن عبدالرحمن بن عبدالعزيز آل سعود، شہزادہ عبدالعزيز بن سعود بن نائف بن عبدالعزيز آل سعود، شہزادہ عبدالله بن بندر بن عبدالعزيز آل سعود، شہزادہ بدر بن عبدالله بن محمد بن فرحان آل سعود، وزیر برائے ماحولیات، پانی وزراعت اور دو ماہرین شامل ہوں گے جن کا انتخاب کونسل کے سربراہ کی جانب سے کیا جائے گا۔