.

اردن : انکم ٹیکس قانون کا تنازع ، شاہ عبداللہ دوم کے سامنے وزیراعظم کی طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن میں بدھ کے روز سے انکم ٹیکس کے قانونی بِل کے حوالے سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ دارالحکومت عمّان اور ملک کے دیگر صوبوں میں عوامی مظاہرے دیکھے جا رہے ہیں۔

گزشتہ چند گھنٹوں میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق معلومات کے مطابق اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ دوم نے پیر کے روز وزیراعظم ہانی الملقی کو طلب کر لیا ہے۔ مبصرین کے اس پیشی کا مقصد فیصلہ کن اقدامات کی تیاری کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق موجودہ حکومت کے وزیر تعلیم و تربیت عمر الرزاز نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے نمایاں ترین امیدوار ہیں۔

ہر بڑھتے گھنٹے کے ساتھ ہی احتجاج کرنے والوں کی تعداد میں کئی گُنا اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مظاہرین کی جانب سے ٹیکس کا قانون واپس لینے، الملقی کی حکومت ختم کرنے اور پارلیمنٹ کو تحلیل کیے جانے کے مطالبات سے متعلق نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ اردن کی حکومت ٹیکس کا قانون واپس لینے سے انکار کر ہی ہے۔

اردن میں پیشہ ورانہ انجمنوں کی کونسل نے دوسری مرتبہ مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بدھ کے روز ملک بھر میں کام کرنے والوں کی جانب سے عام ہڑتال کی جائے۔ انجمنوں کے ذرائع کے مطابق ہڑتال کا مقصد حکومت کے ساتھ اتفاق رائے نہ ہونے پر انجمنوں کے موقف کو مضبوط بنانا ہے۔

اتوار کے روز اردن کی سینیٹ نے دو سفارشات ملک کے فرماں روا شاہ عبداللہ دوم کو پیش کیں۔ پہلی سفارش میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ موجودہ انکم ٹیکس کا قانون واپس لے کر ایک قومی مکالمہ کمیٹی تشکیل دی جائے جو اقتصادی رسائی کا مکمل طور پر جائزہ لے۔

دوسری سفارش میں ایک شاہی ارادے کے اجرا کا مطالبہ کیا گیا ہے جس کے تحت پیر کے روز پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس منعقد کیا جائے۔ پارلیمنٹ قانون کا جواب دے اور اگلے روز اسے سینیٹ میں پیش کیا جائے تا کہ سینیٹ کی جانب سے بھی جواب سامنے آ جائے۔ اس کے نتیجے میں حکومت پر قانون کی ترمیم لازم ہو گی۔

اردن کی پارلیمنٹ کے اسپیکر عاطف الطراونہ نے اردن کی حکومت کو عوامی غیض و غضب اور احتجاجی سلسلے کا ذمّے دار ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے انکم ٹیکس ترامیم کو ارسال کرنے میں عجلت کا مظاہرہ کیا اور اس اقدام سے قبل کسی قسم کی جامع بات چیت نہیں کی گئی۔