.

اردن:وزیراعظم ہانی کا استعفیٰ منظور ،اصلاح پسند وزیر تعلیم کو حکومت بنانے کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے وزیراعظم ہانی الملقی کا ا ستعفیٰ منظور کر لیا ہے اور ان کی کابینہ میں شامل اصلاح پسند وزیر تعلیم عمر الرزاز کو نئی حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔

ہانی الملقی اپنی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے بعد وزارت ِ عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے ہیں۔ ہزاروں اردنی شہری گذشتہ ہفتے سے حکومت کے ٹیکسوں میں اضافے کے منصوبے اور حالیہ مہینوں کے دوران میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔

ہانی الملقی کی حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کی سفارش کے مطابق جنرل سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا تھا لیکن اس کے خلاف اردنی عوام نے دارالحکومت عمّان سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں احتجاجی مظاہرے شروع کردیے تھے۔مظاہرین وزیراعظم ہانی الملقی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے تھے۔

واضح رہے کہ اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے کاروبار دوست سمجھے جانے والے سیاست دان ہانی الملقی کو مئی 2016ء میں وزیراعظم مقرر کیا تھا اور انھیں ملک کی لڑکھڑاتی معیشت کو بحال کرنے کی ذمے داری سونپی تھی۔انھوں نے معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے آئی ایم ایف کی پالیسیوں پر عمل درآمد شروع کیا تھا اور اس سال کے اوائل میں جنرل سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ کردیا تھا اور روٹی پر حکومت کی جانب سے دیے جانے والے زر ِ تلافی کو بھی ختم کردیا تھا۔

ان اقدامات پر وزیراعظم الملقی کی مقبولیت میں تیزی سے کمی واقع ہوئی تھی اور ان کے خلاف گذشتہ جمعرات کی شب افطار کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔مظاہرین ٹیکسوں کی شرح میں اضافے اور خوراک کی اشیاء پر زرتلافی کی کٹوتی کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کررہے تھے۔

ہزاروں مظاہرین نے دارالحکومت عمّان میں وزیراعظم کے دفتر کے باہر بھی احتجاج کیا تھا ۔انھوں نے حکومت پر ملک میں غربت بڑھانے کا الزام عاید کیا تھا ۔ان کا کہاک تھا کہ وہ سفاکانہ فیصلوں کے ذریعے اپنے بجٹ خسارے کو کم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔تاہم شاہ عبداللہ دوم نے گذشتہ جمعہ کو حکومت کے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے فیصلے کو مؤخر کرنے کا حکم دیا تھا اور اس طرح انھوں نے حکومت کے خلاف عوامی غیظ وغضب کو کم کرنے کی کوشش کی تھی۔

اردن کی معیشت حالیہ برسوں کے دورا ن میں مختلف اسباب کی بنا پر مسائل سے دوچار ہوئی ہے،ان میں دس لاکھ کے لگ بھگ شامی مہاجرین کا بوجھ بھی ایک وجہ ہے۔یہ شامی مہاجرین اپنے ملک میں 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے بعد سے اردن میں مہاجر کیمپوں میں مقیم ہیں ۔ان کی ضروریات اردنی حکومت ہی پوری کررہی ہے اور اس کو اس ضمن میں عالمی اداروں کی جانب سے اخراجات کے مطابق مالی امداد نہیں مل رہی ہے۔