یمن میں حوثی باغی جنگ کے لیے یتیم بچوں کو اغواء کرنے لگے!

یتیم خانوں سے اغواء 200 بچے جنگ میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے مقامی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کو جنگ میں شدید افرادی قلت کا سامنا ہے اور اس قلت کودور کرنے اور شکست سے بچنے کے لیے یتیم بچوں کو اغواء کے بعد جنگ کا ایندھن بنانے جیسے مکروہ حربے استعمال کررہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمن سےملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے اپنے زیرتسلط علاقوں بالخصوص صنعاء، عمران اور ذمار گورنریوں سے بڑی تعداد میں یتیم بچوں کو اغواء کے بعد جنگ کے لیےانہیں جنگی تربیت دینا شروع کی ہے۔

وسطی یمن کی ’اب‘ گورنری کے گورنر محمد الدعام نے اتوار کے روز ایک بیان میں بتایا کہ حوثی ملیشیا اس شہروں اور دیہاتوں میں یتیم بچوں کو اغواء کے بعد انہیں جنگ کا ایندھن بنانے کی سازشوں میں مصروف ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ حوثیوں کو اپنے ان جرائم کا حساب دینا ہوگا۔ محمد ادعام نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو حوثی ملیشیا کےحوالے نہ کریں اور بچوں پر کڑی نظر رکھیں کیونکہ باغی مختلف حربوں کے ذریعے بچوں کو اغواء کے بعد جنگ میں جھونک رہے ہیں۔

اسی سیاق میں یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے یمن میں بچوں کو حوثیوں کے ہاتھوں اغواء اور انہیں جنگ کا ایندھن بنائے جانے سے بچانے میں مدد کی اپیل کی۔

انہوں نے بتایا کہ یمن کے یتیم بچوں کے مراکز سےسیکڑوں بچوں کو اغواء کرکے جنگ میں جھونکا گیا جس کے باعث 200 بچے ہلاک ہوگئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں