عوام پر معاشی بوجھ کے دباؤ کو تسلیم کرتاں ہوں:اردنی فرمانروا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نےعوام کے مسلسل احتجاج اور اس کے نتیجے میں وزیراعظم کی برطرفی کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ میں عوام کے ساتھ ہوں اور ان پر ڈالے گئے معاشی بوجھ کو تسلیم کرتا ہوں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق قوم کے نام پیغام میں شاہ عبداللہ دوم نے کہا کہ اردن کو کئی چیلنجز درپیش ہیں اور ان سے دانش مندی اور ذمہ داری کے ساتھ نمٹنا ہوگا۔ ریاست کے تمام ادارے شفافیت اور ذمہ داری کو یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات کریں گے۔

عمان میں صحافیوں ، اخبار نویسوں اور دانشورں کے ایک وفد سے ملاقات میں شاہ عبداللہ نے کہا کہ شہریوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا حق ہے اور میں کسی صورت میں اردنی عوام کو تکلیف نہیں پہنچنے دوں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اردن کی نوجوان نسل حالیہ ایام میں مہذبانہ انداز اختیار کیا ہے اور مجھے اس پر اپنی قوم پر فخر ہے۔ عوام اپنے مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ ہر اردنی شہری اپنے مستقبل کے لیے کام کرتا ہے۔ ان کا مستقبل اردن کے مستقبل سے وابستہ ہے۔

اس موقع پر اردنی فرمانروا کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کو اپنی کاردگی بہتر بنانے، ذمہ داری اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نیا اسلوک اختیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے ملک کی خدمت کے لیے نوجوانوں کو آگے لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ ملک کی ترقی کے لیے نوجوانوں اور پڑھے لکھے افراد کا ریاستی اداروں میں آنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اردن کئی طرح کے بحرانوں اور چیلنجز کا سامنا کررہا ہے اور ہمیں ان چیلنجز سے ذمہ داری اور حکمت سے نمٹنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

خیال رہے کہ حال ہی میں اردنی حکومت کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات پر نئے ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف عوام نے ملک گیر احتجاج شروع کردیا تھا جس پر بادشاہ سلامت کو حکومت برطرف کرتےہوئے نئی کابینہ تشکیل دینا پڑی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں