لیبیا کی فوج کا "درنہ" شہر پر 75% کنٹرول کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کی فوج کی قیادت میں سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ درنہ شہر میں داعش تنظیم کے مرکزی آپریشنز روم کو کنٹرول میں لے لیا گیا ہے۔

پیر کے روز جاری بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ لیبیا کی فوج نے شہر کے 75% حصّے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور وہ شہر کے مشرقی حصّے میں بھی داخل ہو چکی ہے۔

اس سے قبل پیر کے روز لیبیا کی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر درنہ شہر میں "کامیابی اور آزادی" کی گھڑی قریب آنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

حفتر کی فوج ایک ماہ سے درنہ کو آزاد کرانے کے لیے حملوں میں مصروف ہے۔ یہ واحد شہر ہے جو اب تک لیبیا کی قومی فوج کے کنٹرول سے باہر ہے۔

حفتر نے یوٹیوب پر جاری وڈیو میں بتایا کہ ان کی فوج درمہ شہر کے مضافات اور اطراف کو دہشت گرد جماعتوں سے پاک کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

درنہ شہر لیبیا کے دارالحکومت طرابلس سے 1000 کلو میٹر مشرق میں اور بنغازی شہر سے تقریبا 300 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ اس پر 2011ء میں معمر قذافی کی حکومت کے سقوط کے بعد سے شدت پسندوں کا قبضہ ہے۔

حفتر نے واضح کیا کہ درنہ کو آزاد کرانے کے بعد ان کی فوج شہر میں داخل ہو گی تا کہ اس کے تمام علاقوں پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جائے، وہاں معمول کی زندگی بحال کی جائے، اپنے گھر والوں اور برادر عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے اور دہشت گردوں کی باقیات کا خاتمہ کیا جائے۔

خلیفہ حفتر نے اپنی فوج کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ قیدیوں کے ساتھ قانونی اقدامات کے تحت معاملہ کریں اور انہیں متعلقہ اداروں کے حوالے کریں، قیدیوں کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کارروائی نہ کریں اور دہشت گردوں میں سے جو کوئی بھی ہتھیار ڈال دے اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں