.

عراقی پارلیمان کا عام انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم

الیکٹورل کمیشن کو منجمد کرنے کی منظوری ، نو جج صاحبان گنتی کے عمل کی نگرانی کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی پارلیمان نے 12 مئی کو منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ ہاتھوں سے جزوی گنتی کی منظوری دی ہے اور الیکٹورل کمیشن کو منجمد کردیا ہے۔اس کی جگہ اب نو جج صاحبان پر مشتمل کمیشن گنتی کے عمل کی نگرانی کرے گا۔

عراقی پارلیمان کے 382 میں سے 173 ارکان نے بدھ کو عام انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے لیے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے۔اس کے تحت مشین کے ذریعے ڈالے گئے 25 فی صد ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہوگی ۔پارلیمان نے گنتی کے عمل میں بڑے پیمانے بے ضابطگیوں کی شکایات کے بعد ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دیا ہے۔

عراقی حکومت نے الیکٹورل کمیشن کے ارکان پر بیرون ملک جانے پر بھی پابندی عاید کردی ہے اور کہا ہے کہ وہ انتخابات میں فراڈ کی تحقیقات تک بیرون ملک نہیں جاسکتے ہیں۔

پارلیمان نے حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ ان اقدامات سے نئی حکومت کی تشکیل کے عمل کو تقویت ملے گی اور ملک میں استحکام آئے گا۔

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے منگل کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ 12 مئی کو منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں ’’خطرناک خلاف ورزیاں‘‘ ہوئی تھیں اور ایک کمیشن نے ان کا جائزہ لینے کے بعد حکومت کو پیش کردہ ا پنی رپورٹ میں عام انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ ہاتھوں سے جزوی گنتی کی سفارش کی ہے۔

پارلیمان انتخابات میں شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر کی قیادت میں سائرون اتحاد نے سب سے زیادہ 54 نشستیں حاصل کی تھیں۔فتح اتحاد کے حصے میں 47 نشستیں آئی تھیں ۔اس اتحاد میں ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے یونٹس شامل ہیں۔ وزیراعظم حیدر العبادی کی قیادت میں نصر اتحاد نے 42 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔