.

قطر ایئرویز کے سربراہ کے خواتین کی اہانت پر مبنی بیان کے سبب ہنگامہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کی فضائی کمپنی "قطر ایئرویز" کے چیف ایگزیکٹو اکبر الباکر کی جانب سے منگل کے روز سڈنی میں گفتگو کے دوران "خواتین کی عمومی اہانت" کیے جانے پر سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔

الباکر ہوابازی کے بین الاقوامی اتحادIATA کا صدر منتخب ہونے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ایک آسٹریلوی خاتون صحافی نے مشرق وسطی کے ممالک کی فضائی کمپنیوں میں خواتین کی کمزور نمائندگی سے متعلق سوال پوچھ لیا۔

اس پر باکر نے جواب دیا کہ "یقینا، یہ منصب کسی مرد کے ہی پاس پونا چاہیے (ان کا اشارہ فضائی کمپنیوں میں مرکزی عہدے کی جانب تھا)۔ انہوں نے مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ "اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ منصب کٹھن اور چیلنجوں سے بھرپور ہے"۔ اس کے بعد جلد ہی ہال میں موجود صحافیوں کی جانب سے خصوصی طور پر اس بیان کو مسترد کرنے اور اس کی مذمت کے سلسلے میں آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں۔

بلوم برگ نیوز ایجنسی کے مطابق 56 سالہ الباکر نے سڈنی میں IATA کی سالانہ کانفرنس میں کچھ نہیں کیا۔ بلوم برگ نے خواتین کی قدر و منزلت کم کرنے کے حوالے سے الباکر کے بیان کی تضحیک کرتے ہوئے خواتین سے ایک اپیل بھی کی۔

بلوم برگ نے اپنی اپیل میں کہا ہے کہ "خواتین دیگر میدانوں میں ملازمت تلاش کر لیں۔ جناب اکبر الباکر کا تو کہنا ہے کہ ان کے کام کے چیلنجوں کی نوعیت اس طرح کی ہے کہ یہاں صرف مرد ہی ترقی کی سیڑھی چڑھ سکتا ہے"۔ تاہم الباکر کا یہ بھی کہنا ہے کہ قطر ایئرویز میں کام کرنے والوں میں خواتین کی نمائندگی 33% ہے اور ان کے ادارے میں دونوں جنسوں کے درمیان عدم مساوات نہیں ہے۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ الباکر نے نسل پرستی یا امتیازی سوچ پر مبنی بیان دیا ہے۔ گزشتہ برس جولائی میں انہوں نے امریکی فضائی کمپنیوں کے ساتھ زبانی جنگ میں ان کی خواتین میزبانوں کے بارے میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ "ہمارے طیاروں کے عملے کی اوسط عمر صرف 26 برس ہے جب کہ آپ لوگوں کی خدمت ہمیشہ دادی اماں کرتی ہیں"۔