.

تیل کے بدلے لبنان۔ اسرائیل سرحدوں کے تعین کا امریکی فارمولا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ روز توانائی کے اسرائیلی وزیر نے ایک ایسا بیان دیا جس پرمشرق وسطیٰ میں ایک نئی ہل چل دیکھنے میں آئی ہے۔ اسرائیلی وزیر نے انکشاف کیا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحدوں کے تنازع کے حل کے لیے امریکا ثالثی کی کوششیں کررہا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد توجہ ایک بار پھر لبنان کی داخلی صورت حال کی طرف مڑ گئی ہے۔یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ امریکا تیل کے بدلے لبنان اور اسرائیل کےدرمیان سرحدوں کا تنازع حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ لبنان اور اسرائیل بری اور بحری سرحدوں کے تعین کے لیے تیل کو بہ طور وسیلہ استعمال کرسکتے ہیں۔ دونوں ممالک تیل کے مشترکہ منصوبوں کے ذریعے یہ مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ لبنان نے البلوکین میں آئل فیلڈ 6 اور 9 میں تیل کی تلاش کے لیے اہم مراحل طے کرلیے ہیں۔ اسرائیل لبنان کے ان منصوبوں کو متنازع قرار دے کر ان پر اپنا حق جتلانے کی کوشش کررہا ہے۔

لبنانی حکومت کے ایک ذمہ دار ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ حال ہی میں قصر کے مقام پرایک اہم اجلاس ہوا جس میں لبنانی صدر میشل عون، وزیراعظم سعد حریری اور پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کے بجائے ڈائریکٹر جنرل سیکیورٹی امور میجر جنرل عباس ابراہیم، اقوام متحدہ کی امن فوج ’یونیفیل‘ کے رابطہ کار بریگیڈیئر امین فرحات، اور بریگیڈیئر رولی فارس نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں امریکا کی طرف سے پیش کی گئی اس تجویز پرغور کیا گیا جس میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان تیل کے مشترکہ منصوبوں کے بدلے سرحدوں کے تعین کی بات کی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین یعنی اسرائیل اور لبنان بالواسطہ ہونے والی بات چیت میں غیر سرکاری طورپر اس طرح کی تجاویز پر پہلے بھی غور کرتے رہے ہیں مگر اب یہ باضابطہ اجلاسوں میں زیرغور تجویز بن چکی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تیل کے بدلے سرحدوں کے تعین کی امریکی تجویز پر بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ اسرائیل نے لبنان کے بعض متنازع علاقوں سےانخلاء پرآمادی ظاہر کی ہے جب کہ خشکی کے 13 متنازع مقامات میں سے 8 پر فریقین میں معاہدہ طے پاگیا ہے۔