.

قطر کے سازشی حکمرانوں کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں:سلطان بن سحیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے حکمران خاندان کے جلا وطن رہ نما الشیخ سلطان بن سحیم نے چار عرب ممالک کی طرف سے قطر کے سیاسی، سفارتی اور اقتصادی بائیکاٹ کا ایک سال مکمل ہونے پراپنے ملک کے حکمرانوں کو ایک بار پھر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پڑوسی ملکوں کے خلاف سازشوں کے تانے بانے تیار کرنے اور اپنے عوام کے حقوق دبانے والے حکمرانوں کو اقتدار پر فائز رہنے کا کوئی حق نہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ پر متعدد ٹویٹس میں سلطان بن سحیم نے کہا کہ ’آج کا دن قطری قوم کے لیے شرمندگی کا دن ہے کہ ان پر حمدین مسلط ہیں۔ اس روز سازشیں کرنےوالے قطری حکمرانوں کے خلاف پڑوسی بھائیوں نے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ بائیکاٹ، عناد اور تکبر کا ایک سال، کیا ایسے لوگ قطر کے حکمران بننے کےاہل ہیں اوران پر اعتبار کیا جاسکتا ہے؟۔

الشیخ سلطان بن سحیم نے کہا کہ قطر کی ایک سال کی تنہائی کے بعد بھی حمدین رجیم کو مغلوب قطری قوم کے مسائل کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں۔ ہاں انہیں اگر کسی چیز میں کوئی دلچسپی ہے تو وہ ان کی سازشیں ہیں۔ مگر قطری حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی سازشیں بدستور جاری رہی ہیں تو بائیکاٹ کا عرصہ دس سال بھی ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چار عرب ممالک کی طرف سے بائیکاٹ کے بعد قطر نےکئی دوسرے ملکوں سےمدد مانگی مگر انہیں کہیں سے بھی مدد نہیں مل سکی ہے۔

خیال رہے کہ پانچ جون 2017ء کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات،بحرین اور مصرنے قطر پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام عاید کرنے کےبعد دوحہ کا سیاسی، سفری، اقتصادی اور سفارتی بائیکاٹ کردیا تھا۔ اس بائیکاٹ کو اب ایک سال مکمل ہوچکا ہے۔