اردن کے دارالحکومت میں عوامی احتجاج کا سلسلہ ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن میں جنرل سکیورٹی ڈائرکٹریٹ نے جمعرات کی رات ایک اعلان میں بتایا کہ دارالحکومت عمّان میں عوام کی جانب سے جاری احتجاجی سرگرمیاں اختتام پذیر ہو گئیں ہیں۔

احتجاجی سلسلے کا اختتام پورے ایک ہفتے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس دوران مظاہروں میں ٹیکس کا قانون واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ نامزد وزیراعظم عمر الرزاز نے پارلیمنٹ اور انجمنوں کی کونسل کے ساتھ ملاقات کے بعد اس مطالبے کو پورا کرنے کا عزم کیا ہے۔

اپنی نامزدگی کے بعد پہلی مرتبہ نمودار ہونے پر الرزاز کا کہنا تھا کہ وہ اردن میں اپوزیشن کی بات کو کھلے دل کے ساتھ سنیں گے۔

الرزاز کا یہ موقف پارلیمنٹ کے اسپیکر عاطف طراونہ کے ساتھ ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔ طراونہ نے الرزاز سے سفارش کی کہ وہ ٹیکس کے قانون میں نئی تبدیلوں کو منسوخ کر دیں۔ اسپیکر نے یہ بھی بتایا کہ پارلیمنٹ کی اکثریت ان تبدیلیوں کو مسترد کرتی ہے۔

الرزاز نے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے جاری مشاورت کے سلسلے میں پارلیمنٹ اور سینیٹ کے اسپیکروں سے ملاقات کی تھی۔ وہ ٹیکس کے قانون کو زیر بحث لانے کے لیے پیشہ ورانہ انجمنوں کے رہ نماؤں سے بھی ملے۔

یہ مشاورتیں اور ملاقاتیں اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ دوم کی ہدایات پر ہوئیں جنہوں نے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ تمام سیاسی قوتوں ، پیشہ ورانہ انجمنوں اور پارلیمنٹ کے ساتھ جامع بات چیت کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں