.

ایران کو پے درپے دھچکے ، 10 بڑی عالمی کمپنیاں رخصت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علاحدگی کے فیصلے کے بعد ایران کی سابق صدر اوباما کی انتظامیہ اور پانچ عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پائے گئے معاہدے کی خوشی کافور ہو گئی ہے۔ تاہم واشنگٹن کے ہر دکھ سکھ کے حلیف ہونے کے باوجود یورپی ممالک کے اقتصادی مفادات نے انہیں نے حالیہ رجحان کی مخالف سمت چلنے پر مجبور کر دیا۔

البتہ ایسا نظر آ رہا ہے کہ امریکی پابندیوں کے طوفان کے سامنے ہچکولے کھاتے ایرانی سفینے میں یورپی اور ایشیائی قیادت کا سوار ہونا بھی اسے ڈوبنے سے نہیں بچا سکا یا نزدیک ترین ساحل پر واپس نہیں لا سکا۔ اس طرح ایران میں منافع بخش کاروبار کی حامل بڑی عالمی کمپنیاں یکے بعد دیگرے ملک چھوڑ کر نکلتی رہیں۔

فارسی زبان کی ویب سائٹ "فرارو" نے اپنی ایک رپورٹ میں 10 بڑی عالمی کمپنیوں کے ایران سے کوچ کر جانے کا ذکر کیا ہے۔ اگرچہ یورپی ممالک نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کی شقوں پر کاربند رہنے تک وہ اس سمجھوتے کا حصّہ رہیں گے تاہم یورپ کی آزادانہ تجارت کے مطابق کمپنیاں حکومتی فیصلوں کے آگے نہیں جھکتیں بلکہ وہ اپنے نفع نقصان کے بنیادی اصول کے مطابق پر چلتی ہیں۔

ایران سے کوچ کر جانے والی 10 اہم کمپنیاں :

1 ۔ TOTAL : تیل اور توانائی کے شعبے کی فرانسیسی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ جوہری معاہدے سے امریکا کے نکل جانے کی روشنی میں خلیجِ عربی میں واقع تہران کی SP11 فیلڈ سے انخلاء عمل میں لا سکتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اسے چاہیے کہ نومبر 2018ء سے قبل اس فیلڈ سے متعلق تمام آپریشنز کو ختم کرنا ہو گا۔

2 ۔ MAERSK : سمندری نقل و حمل کے میدان میں سرگرم ڈنمارک کی میرسک سِی لینڈ کمپنی کا شمار "کنٹینرز اینڈ فِریٹ" کے حوالے سے عالمی سطح پر سب سے بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ کمپنی نے امریکی اقتصادی پابندیوں کے سبب ایران میں اپنا آپریشن بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق وہ ایران کے مقابلے میں امریکا کے ساتھ تجارتی معاملات کو ترجیح دیتی ہے۔ تاہم کمپنی نے ایران کے ساتھ معاملات روک دینے کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

3 ۔ PEUGEOT : گاڑیاں تیار کرنے والے اس فرانسیسی گروپ نے پیر کے روز ایک بیان میں اعلان کیا کہ وہ اب سے لے کر چھ اگست 2018ء تک ایران سے نکل جانے کے لیے تیار ہے۔ کمپنی نے گزشتہ برس ایران میں 4.44 لاکھ گاڑیاں فروخت کی تھیں۔

4 ۔ GENERAL ELECTRIC : یہ صنعت و ٹکنالوجی سے متعلق ایک کثیر القومی گروپ ہے جس کا صدر دفتر امریکا میں ہے۔ کمپنی نے امریکی وزارت خزانہ نے جوہری معاہدہ طے پانے اور ایران پر سے پابندیاں اٹھا لیے جانے کے بعد "جنرل الیکٹرک" ایران کے ساتھ کام کرنے کے لیے خصوص اجازت نامہ دیا تھا۔

5 ۔ HONEYWELL: متعدد سرگرمیوں کی حامل امریکی کمپنی جو جدید ترین الکٹرونک ٹکنالوجی کے میدان میں ایک بڑا نام ہے۔ سال 2016ء سے کمپنی ایران میں 11 کروڑ ڈالر کا منافع کما چکی ہے۔ کچھ عرصقہ قبل کمپنی نے ایران سے نکل جانے کا اعلان کیا۔

6 ۔ BOEING : طیارے تیار کرنے والی معروف کمپنی بوئنگ نے ایرانی فضائی کمپنیوں کو طیاروں کی فروخت کے لیے 20 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ تاہم حال ہی میں کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ تہران پر امریکی پابندیوں کی پاسداری کرتے ہوئے ایرانی کمپنیوں کو کوئی طیارہ فرخت نہیں کرے گی۔

7 ۔ LUKOIL : یہ تیل کی مصنوعات کے شعبے میں کام کرنے والی روس کی دوسری بڑی کمپنی شمار کی جاتی ہے۔ کمپنی نے مئی کے اختتام پر اعلان کیا کہ وہ تہران پر امریکی پابندیوں کے سبب تیل کے سیکٹر میں ایرانی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری جاری نہیں رکھے گی۔

8 ۔ RELIANCE : بھارتی کمپنی جو دنیا بھر میں آئل ریفائننگ کے سب سے بڑے کمپلیکس کی مالک ہے۔ ریلائنس انڈسٹریز نے مئی کے اختتام پر اعلان کیا تھا کہ وہ ایران سے تیل کی درآمد روکنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ توقع ہے کہ کمپنی کی جانب سے اس فیصلے پر عمل درامد اکتوبر یا نومبر سے شروع ہو جائے گا۔

9 ۔ DOVER : ایک امریکی کمپنی جو صنعتی ساز و سامان، الکٹرونک آلات اور تیل کی صنعت کو مطلوب سامان تیار کرتی ہے۔ کمپنی نے 2017ء میں ایران کے ساتھ پہلا معاہدہ طے کیا تھا تاہم جوہری معاہدے سے امریکا کے نکل جانے کے بعد کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران میں اپنی تمام سرگرمیوں کے خاتمے کے درپے ہے۔

10 ۔ SIEMENS : ایک کثیر القومی کمپنی جس کا صدر دفتر جرمنی میں ہے۔ یہ مختلف صنعتی شعبوں میں کام انجام دے رہی ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ ایران سے کوئی نیا آرڈر قبول نہیں کرے گی اور اب سے بتدریج ایران میں اپنی سرگرمیوں میں کمی لائے گی۔