غیرمسبوق پیش رفت،نائن الیون کے حملہ آوروں کوسہولت دینے کا ایرانی اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی عدلیہ کے ایک سینیر عہدیدار نے اعتراف کیا ہے کہ 11 ستمبر2001ء کو امریکی شہر نیویارک میں حملے کرنے والے القاعدہ کے دہشت گردوں کو تہران نے سہولت فراہم کی تھی۔ کسی اعلی ایرانی عہدیدار کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا اعتراف ہے۔ اس سے قبل ایران سرکاری سطح پر اس طرح کے الزامات بالخصوص القاعدہ جنگجوؤں کی مدد کی خبروں کی تردید کرتا رہا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی عدلیہ کے معاون محمد جواد لاری جانی نے کہاکہ ایرانی انٹیلی جنس داروں نے القاعدہ کے جنگجوؤں کو ایران سے گذرنے اور ملک میں قیام کے لیے ہرطرح کی سہولت مہیا کی۔

اپنے انٹرویو میں جواد لاری جانی نے لی ھاملیٹون اور دیگر کی جانب سے تیار کردہ طویل رپورٹ کا بھی حوالہ دیا جس کے صفحہ 240 اور 241 یا تین صفحات میں نائن الیون کے واقعات کے سہولت کاروں اور القادہ ارکان سے ایرانی تعاون پر بحث کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی رپورٹس کے مجموعے میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے القاعدہ جنگجوؤں کو دوسرے ملکوں تک رسائی بالخصوص افغانستان تک پہنچنے کے لیے انہیں کسی تیسرے ملک کے تعاون کی ضرورت تھی۔ القاعدہ کی یہ ضرورت ایران اپنی سرزمین اور فضاء ان کے لیے کھول کر پوری کردی۔

القاعدہ جنگجوؤں کی طرف سے ایرانی حکام سے کہا جاتا کہ وہ ان کے پاسپورٹس پر ایران کی مہر نہ لگائیں ورنہ سعودی عرب واپسی پرانہیں حکومت گرفتار کرلے گی۔

ایرانی عہدیدار جواد لاری جانی نے کہا کہ تہران نے القاعدہ جنگجوؤں کی وہ تجویز قبول کرلی اور ان کے پاسپورٹس پر ایران کی مہر نہیں لگائی گئی۔ اس طرح القاعدہ ارکان اپنے پاسپورٹس پر ایرانی مہر کے بغیر ایرانی انٹیلی جنس اداروں کی معاونت سے سفر کرتے رہے۔

جواد لاری جانی نے امریکی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ القاعدہ کے جنگجوؤں کو اس طرح کی سہولیات دینے پر امریکا نے ایران کو بھی نائن الیون کے حملوں میں ملوث ہونے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

خیال رہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے مبینہ کمپاؤنڈ سے ’سی آئی اے‘ کے ہاتھ لگنے والی دستاویزات سے بھی القاعدہ اور ایران کے باہمی روابط اورتعلقات کا پتا چلتا ہے۔

سی آئی اے کے ہاتھ لگنے والی چار لاکھ 70 ہزار صفحات پر مشتمل دستاویزات میں 19 صفحات ایران اور القاعدہ کے باہمی تعلقات کی تفصیلات پر مشتمل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں