.

شام میں ایرانی ملیشیائیں بشار الاسد کی فوج کی وردیوں میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار حکومت نے ایرانی ملیشیاؤں کو اپنی اراضی پر باقی رکھنے اور سرحد پر اسرائیلی فورسز کے ساتھ جھڑپ سے بچانے کو یقینی بنانے کے لیے ایک نیا حربہ اپنایا ہے۔ ایرانی ملیشیاؤں کے عناصر کو شامی فوجیوں کی سرکاری وردیاں پہنا دی گئی ہیں تا کہ شام میں ایرانی اہداف کو اسرائیلی فضائی حملوں سے بچایا جا سکے۔ اس بات کا انکشاف معروف امریکی اخبار Wall street journal نے اپنی تازہ ترین اشاعت میں کیا ہے۔

ادھر اسرائیل نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ لبنانی تنظیم حزب اللہ اور دیگر ایران نواز ملیشیاؤں کے جنگجوؤں پر مشتمل عسکری قافلے شام کے جنوب مغرب میں واقع درعا اور قنیطرہ کے صوبوں میں لوٹ آئے ہیں۔ یہ دونوں صوبے گولان کے پہاڑی علاقے کے نزدیک ہیں جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ شامی پرچموں کے سائے تلے مذکورہ جنگجو شام کی فوجی وردیوں میں ملبوس ہیں۔ اپوزیشن کے ایک محاذ کے کمانڈر کے مطابق واپس لوٹنے والے یہ قافلے میزائلوں اور راکٹوں سے لیس ہیں۔

قنیطرہ میں سالویشن آرمی کے کمانڈر احمد عزام کا کہنا ہے کہ "یہ ملیشیائیں حزب اللہ کی عسکری وردی میں جاتی ہیں اور پھر شامی حکومتی فورسز کی گاڑیوں میں واپس لوٹتی ہیں اور ان کے عناصر شامی حکومت کی عسکری وردیوں میں ملبوس ہوتے ہیں"۔ عزام کے مطابق لبنان، ایران، عراق اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے کئی جنگجوؤں نے شامی شناختی کارڈ حاصل کر رکھے ہیں۔ ایک دوسرے کمانڈر کے مطابق جنگجوؤں کو جو شناختی نمبر پیش کیے گئے ہیں وہ گزشتہ برسوں کے دوران لڑائی میں مارے جانے والے افراد کے ہیں۔