.

پوری دنیا بھی مل کر حزب اللہ کو شام سے نہیں نکال سکتی : حسن نصر اللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ سیّد حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد جب تک چاہیں گے،ان کی تنظیم کے جنگجو جنگ زدہ ملک میں موجود رہیں گے اور پوری دنیا بھی انھیں وہاں سے نہیں نکال سکتی ہے۔

انھوں نے ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ ’’ میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں ، اگر پوری دنیا بھی اکٹھی ہو کر آجائے اور شام سے نکل جانے کے لیے ہم پر دباؤ ڈالے تو وہ ہمیں وہاں سے نہیں نکال سکتی ہے اور صرف شامی قیادت ہی ہمیں انخلا کا کہہ سکتی ہے‘‘۔

لبنان کا پڑوسی ملک اسرائیل متعدد مرتبہ حزب اللہ کے شام سے انخلا کا مطالبہ کرچکا ہے۔اسرائیلی طیارے شام میں حزب اللہ اور ایرانی کمانڈروں پر کئی فضائی حملے کرچکے ہیں۔امریکا نے بھی حال ہی میں ایران اور اس کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے شام سے انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔

حزب اللہ اور ایران کی تربیت یافتہ دوسری شیعہ ملیشیاؤں اور روس کی فوجی مدد کی بدولت ہی بشار الاسد کی فوج باغی گروپوں کے زیر قبضہ بہت سے شہروں اور قصبوں کو گذشتہ مہینوں کے دوران میں واپس لینے میں کامیاب ہوئی ہے۔روسی لڑاکا طیارے شامی باغیوں اور داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کرتے رہے ہیں جبکہ شیعہ ملیشیاؤں کے جنگجو شامی فوج کے شانہ بشانہ باغیوں کے خلاف زمینی کارروائیوں میں شریک رہے ہیں۔

اب روس نے بھی حال ہی میں شام کے جنوبی علاقے سے تمام غیر شامی فورسز کے انخلا کا مطالبہ کردیا ہے ۔اس میں واضح اشارہ ایران اور اس کی پروردہ شیعہ ملیشیاؤں کی جانب تھا۔اس کے علاوہ روس نے عراق کی سرحد کے نزدیک ایک فوجی اڈے سے امریکی فورسز کے انخلا کا بھی مطالبہ کیا تھا۔