.

روس ہی شام میں شو نہیں چلا رہا : بشارالاسد کا دعویٰ

روس کی شام میں مداخلت درست ، مگر امریکا اور برطانیہ کی جنگی کارروائیاں ’’ کالونیل‘‘ زمرے میں آتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ روس ان کے جنگ زدہ ملک میں تمام شو چلا رہا ہے۔انھوں نے اتوار کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کی حکومت اپنے روسی اور ایرانی اتحادیوں سے آزاد رہ کر کام کررہی ہے۔

انھوں نے دمشق میں برطانوی اخبار میل آن سنڈے سے مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی ہے اور ان کا یہ انٹرویو اتوار کو شائع کیا گیا ہے۔انھوں نے شام میں روس کی فوجی کارروائیوں کی تو تعریف کی ہے لیکن امریکا اور برطانیہ کی جنگی کارروائیوں کو’’ کالونیل‘‘ قرار دیا ہے۔

بشارالاسد نے کہا’’ ہمارے روس سے گذشتہ چھے ،سات عشروں سے اچھے تعلقات استوار ہیں ۔انھوں ( روسیوں) نے ان تعلقات کے دوران میں کسی اختلاف کی صورت میں بھی اپنی بات منوانے کی کوشش نہیں کی‘‘۔

انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی حکومت کے روس اور ایران کے ساتھ گذشتہ سات سال سے جاری تنازع کے دوران میں اختلافات رہے ہیں۔ان کے بہ قول ’’یہ ایک فطری بات ہے لیکن آخر کار شام میں جو کچھ ہورہا ہے اور جو کچھ ہوگا،تو اس حوالے سے شامی فیصلہ ہوتا ہے‘‘۔

روس نے ستمبر 2015ء میں شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں اور اس کی فضائی مہم کے نتیجے ہی میں شامی فوج کو باغیوں کے خلاف لڑائی میں پے درپے کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور اسد حکومت باغیوں کے زیر قبضہ ملک کے قریباً نصف علاقے واپس لینے میں کامیابی ہوگئی ہے۔

روس کے علاوہ ایران کے فوجی اور اس کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیائیں بھی شامی فوج کے شانہ بشانہ باغیوں سے لڑرہی ہیں۔اس دوران میں اسرائیل نے متعدد مرتبہ شام میں حزب اللہ اور ایران کے کمانڈروں پر فضائی حملے کیے ہیں اور ان کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

بشارالاسد نے انٹرویو میں اس بات کی تردید کی ہے کہ روس کو شام میں اسرائیل کے ان فضائی حملوں کا پیشگی علم ہوتا تھا حالانکہ روس اور اسرائیل کے درمیان قریبی تعلقات استوار ہیں۔ انھوں نے کہا:’’ نہیں ، یہ بات درست نہیں۔روس نے شام کے خلاف کبھی کسی سے روابط استوار نہیں کیے،سیاسی طور پر اور نہ فوجی لحاظ سے۔ وہ شامی فوج کی پیش قدمی میں کیسے مدد دے سکتے ہیں جبکہ عین اس لمحے وہ ہمارے دشمنوں کے ساتھ مل کر ہماری فوج کی تباہی کے لیے کام بھی کررہے ہوں‘‘۔

شامی صدر نے اس انٹرویو میں روس کی حمایت کو سراہا اور اس کا دفاع کیا لیکن امریکا اور برطانیہ کی مداخلت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ شام کی خود مختاری کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں۔انھوں نے کہا:’’ یہ کالونیل پالیسی ہے ،ہم اس کو ایسے ہی دیکھتے ہیں اور یہ کوئی نئی پالیسی نہیں ہے‘‘۔

انھوں نے برطانوی اخبار کو یہ بھی بتایا کہ شام نے یورپی اقوام کے ساتھ انٹیلی جنس تبادلے کا سلسلہ موقوف کردیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ وہ (یورپی ممالک) معلومات کا تبادلہ چاہتے ہیں جبکہ ان کی حکومتیں سیاسی طور پر ہمارے خلاف ہیں۔اس لیے ہم نے ان سے کہا ہے کہ جب آپ اپنا سیاسی مؤقف تبدیل کرلیں گے تو ہم انٹیلی جنس کے تبادلے کے لیے تیار ہوں گے‘‘۔

’’اس وقت برطانیہ سمیت یورپ کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا جارہا ہے’’۔ان کا کہنا تھا۔

میل آن سنڈے کے مطابق بشارالاسد کا 2015ء کے بعد کسی برطانوی صحافی کو دیا گیا یہ پہلا انٹرویو ہے۔شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے اس کا مکمل مسودہ شائع کیا ہے۔