.

ماکروں کے زور دار مصافحے نے ٹرمپ کے ہاتھ پر نشان چھوڑ دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غیر ملکی سربراہان اور رہ نماؤں کے ساتھ اپنے زور دار مصافحے کے حوالے سے کافی مشہور رہے ہیں۔ تاہم جمعے کی شام کینیڈا میں جی سیون کے اجلاس کے دوران کیمروں کی آنکھ نے جو منظر پیش کیا وہ ایک برعکس کہانی پیش کر رہا تھا۔

برطانوی اخبار "ٹیلی گراف" کے مطابق فرانسیسی صدر عمانوئل ماکروں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مصافحے کے دوران 25 سیکنڈ تک زوردار طریقے سے اُن کا ہاتھ تھامے رکھا جس کے نتیجے میں امریکی صدر کا ہاتھ لال پڑ گیا۔

پہلے پہل ماکروں نے ٹرمپ کی کہنی کو پکڑا اور پھر اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا۔ ٹرمپ نے بھی اپنا ہاتھ ماکروں کو پیش کیا تو فرانسیسی صدر نے اسے طاقت سے پکڑ لیا اور اس پر دباؤ ڈالے رکھا۔ اس پر ٹرمپ کو کچھ دیر بعد ہاتھ واپس کھینچ لینے میں ہی عافیت نظر آئی۔ مصافحے کے بعد ٹرمپ کے ہاتھ پر ماکروں کی انگلیوں کے نشانات نمایاں تھے۔

ٹرمپ نے صحافیوں کو ماکروں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ "یہ میرے دوست ہیں۔ ابتدا سے ہی ہمارا شان دار تعلق رہا ہے"۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد زور دار طریقے سے مصافحے کے حوالے سے شہرت حاصل کی تھی جس میں وہ دوسرے کے ہاتھ کو سختی کے ساتھ پکڑا کرتے تھے۔ البتہ اس مرتبہ ماکروں نے انہیں ایسا کرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔