.

کیا رفسنجانی کو قتل کیا گیا ؟ سابق مشیر کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے سابق مشیر غلام علی رجائی کا کہنا ہے کہ رفسنجانی کی وفات "طبعی وجوہات کی بنا پر نہیں ہوئی"۔ انہوں نے یہ انکشاف ہفتے کے روز فارسی زبان کی ایرانی ویب سائٹ "انصاف نیوز" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ یاد رہے کہ ایران کی با اثر ترین شخصیات میں شامل ، سابق صدر اور تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ علی رفسنجانی اتوار 8 جنوری 2018ء کو فوت ہو گئے تھے۔ سرکاری بیان کے مطابق 83 سالہ رفسنجانی کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد تہران کے ایک ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ وفات پا گئے۔ تاہم بعض حلقوں نے اُس وقت بھی سابق صدر کی موت کی وجوہات سے متعلق سرکاری بیان پر شکوک کا اظہار کیا تھا۔

رجائی کا کہنا تھا کہ "میں کوئی سکیورٹی اہل کار نہیں کہ واقعے کی تفصیلات کا تجزیہ کروں، میرے پاس تو مطلوبہ معلومات بھی نہیں۔ تاہم میں اتنا جانتا ہوں کہ جناب رفسنجانی کی بیگم کے مطابق سابق صدر نے اپنی وفات سے دس روز قبل یہ کہا تھا کہ ایک دن آنے والا ہے جب انہیں قتل کر دیا جائے گا"۔

علی رفسنجانی کا شمار ایرانی انقلاب کے سرخیل خمینی کی قریب ترین شخصیات میں ہوتا تھا۔ سال 1989ء میں خمینی کی موت کے بعد رفسنجانی نے مجلس خبرگان رہبری کو اس امر پر قائل کرنے میں فیصلہ کن اور نمایاں کردار ادا کیا کہ علی خامنہ ای کو خمینی کا جاں نشیں چُن لیا جائے۔ رفسنجانی دو مدتوں کے لیے ایران کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ بعد ازاں خامنہ ای کے ساتھ بالخصوص 2009ء کے انتخابات کے بعد احتجاج کے دوران وہ اصلاح پسندوں کی تحریک کے قریب ہو گئے اور ایران میں اعتدال پسند بلاک کے روحانی باپ بن گئے۔

رجائی کے مطابق سابق صدر کے قتل کے امکان کے بارے میں بیگم رفسنجانی کی کہی ہوئی بات بھی ان تک براہ راست نہیں بلکہ کسی واسطے سے پہنچی تھی۔ رجائی کا کہنا ہے کہ رفسنجانی کے نزدیک ان کو ہلاک کیے جانے کا قوی امکان تھا۔

رفسنجانی کے مشیر نے سابق صدر کی بیٹی فاطمہ رفسنجانی کے حوالے سے بتایا کہ ایک مرتبہ موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص فاطمہ کے نزدیک آیا اور کہا کہ "اپنے والد کو بتا دو کہ ان کو ہلاک کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے"۔ اس کے بعد وہ موٹر سائیکل سوار چلا گیا۔

رجائی نے مزید کہا کہ "ہمیں چاہیے کہ سکیورٹی حکام کی رائے سامنے آنے کا انتظار کریں کیوں کہ میری باتیں ٹھوس بنیادوں پر مبنی نہیں ہیں۔ بہرحال اس واقعے پر پراسراریت کے پردے پڑے ہوئے ہیں جو یقینا چند دہائیوں بعد ہٹیں گے"۔

رجائی کے مطابق انہوں نے رفسنجانی کی زندگی کے آخری ایام سے متعلق ایک وڈیو جاری کی تھی جو سکیورٹی کیمرے کے ذریعے ریکارڈ کی گئی۔ وڈیو میں رفسنجانی کو حسب عادت تیزی کے ساتھ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

غلام علی رجائی نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ "وڈیو میں جو رفسنجانی ہمیں نظر آئے ان کے لیے یہ بالکل ممکن تھا کہ 15 برس بعد بھی وہ ویسے ہی رفسنجانی ہوں۔ جو تیزی کے ساتھ سیڑھیاں طے کیا کرتے تھے۔ ہم کئی مرتبہ مشہد شہر گئے جہاں رفسنجانی 81 برس کی عمر میں بھی دوڑتے ہوئے سیڑھیاں چڑھتے تھے۔ انتخابات کی دوڑ میں شریک نہ ہونے کے بعد وہ پہاڑوں پر چڑھنے کے لیے نکل گئے"۔

اکتوبر 2017ء میں رفسنجانی کی بیٹی فاطمہ نے الزام عائد کیا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے ان کے والد کی تمام ذاتی اشیاء قبضے میں لے لیں جن میں یہ وصیت بھی شامل تھی اور ان کے اہلِ خانہ ابھی تک اس کی تلاش میں ہیں۔ ایرانی روزنامے "جہان صنعت" سے گفتگو کرتے ہوئے فاطمہ نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کے اہل کاروں نے ان کے والد کی وفات کے روز ہی آ کر تمام اشیاء ضبط کر لی تھیں۔

وصیت کے چھپائے جانے سے متعلق رفسنجانی کے بیٹے یاسر ہاشمی نے ایرانی اخبار "اعتماد" کو بتایا کہ ان کا گھرانہ ابھی تک اصلی وصیت کو ڈھونڈ رہا ہے جس ان کے والد نے وفات سے قبل تحریر کی تھی۔

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن پر رفسنجانی کی موت کے بعد ان کی وصیت کا ایک حصہ پڑھ کر سنایا گیا تھا تاہم رفسنجانی کی بیٹی فاطمہ کے مطابق یہ وصیت 17 برس پرانی ہے یعنی سخت گیر ٹولے کے ساتھ اختلافات سے قبل لکھی گئی۔ اس ٹولے نے رفسنجانی کو ان کے بہت سے منصبوں اور اختیارات سے دُور کیا جن میں شوری نگہبان کی سربراہی شامل ہے۔