.

آئندہ چند گھنٹوں میں درنہ مکمل طور پر آزاد ہو گا : لیبیائی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں سرکاری فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد المسماری کا کہنا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں درنہ شہر کو دہشت گرد جماعتوں کے قبضے سے مکمل طور پر آزاد کرا لینے کا اعلان کیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بات اتوار کی شب الحدث نیوز چینل کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے میں کہی۔

المسماری نے مزید بتایا کہ "فوج شہر کے وسطی علاقے کو دہشت گردوں کی بچی کھچی ٹولیوں سے پاک کر رہی ہے۔ شہر میں القاعدہ تنظیم کے لیبیائی اور غیر ملکی سینئر کمانڈروں کے ساتھ مقابلہ اختتام کو پہنچ چکا ہے"۔

یاد رہے کہ لیبیا کے مشرقی شہر درنہ میں القاعدہ تنظیم کو حالیہ دنوں میں کاری ضربوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس دوران لیبیا کی فوج تنظیم کے سکیورٹی عہدے دار یحیی الاسطی عمر کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ اس کے علاوہ "مجاہدینِ درنہ" گروپ کے مفتی اور القاعدہ تنظیم کے ایک ایک اہم مصری کمانڈر عمر رفاعی بھی ہفتے کے روز شیحا کے علاقے میں جھڑپوں کے دوران ہلاک ہو گیا۔ یہ جھڑپیں لیبیا کی فوج اور القاعدہ کے زیر انتظام گروپ "مجاہدینِ درنہ شوری" کونسل کے درمیان ہوئیں۔

گزشتہ ہفتے لیبیا کی فوج نے درنہ شہر کے 75% حصّے پر کنٹرول حاصل کرنے اور شہر کے مشرقی علاقے میں داخل ہو جانے کا اعلان کیا تھا۔