.

اردن کے اقتصادی بحران پرسعودیہ کی میزبانی میں چار ملکی اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں اردن میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اٹھنے والی ملک گیر احتجاجی تحریک اور ملک میں جاری معاشی بحران کے تناظر میں سعودی عرب کی میزبانی میں چار ممالک کا اہم اجلاس اتوار کی شام مکہ مکرمہ میں ہوا۔ اجلاس کی صدارت سعودی فرمانرروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کی جب کہ اس موقع پر اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم، امیر کویت الشیخ صباح الاحمد الصباح اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر الشیخ محمد بن راشد نے بھی شرکت کی۔

’العربیہ‘ کےمطابق اجلاس میں ہونے والی بات چیت کے دوران اردن میں جاری معاشی اور اقتصادی بحران کے حل پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ امیر کویت اور متحدہ عرب امارات کے صدر اتوار کی شب سعودی عرب پہنچے جہاں انہوں شاہ سلمان سے الگ الگ اور بعد میں مشترکہ ملاقات کی۔ اجلاس میں شریک تینوں خلیجی ملکوں نے برادر ملک اردن کو درپیش معاشی اور اقتصادی مسائل کے حل میں ہرممکن مدد دینے کی یقین دہانی کرائی۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے اردن میں مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک گیر عوامی احتجاج شروع ہوگیا تھا۔ احتجاج کی لہر کے نتیجے میں حکومت تبدیل کردی گئی تھی۔ اس دوران سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ سے ٹیلیفون پر بات چیت میں انہیں ہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔ بعد ازاں شاہ سلمان نے اتوار کی شام چار ملکی اجلاس بھی طلب کیا تاکہ اردن میں اٹھنے والی عوامی احتجاجی تحریک اور مالی بحران کےحل کے حوالے سے کوئی مربوط لائحہ عمل مرتب کیا جاسکے۔

اردن میں عوامی سطح پر کل مکہ معظمہ میں ہونے والے چار ملکی اجلاس کو سراہا گیا ہے۔ اردنی عوام نے سعودی عرب پر فوری حرکت میں آنے اور دوسرے ممالک کو اپنے ساتھ ملا کر اردن کے مسائل کے حل میں مدد کی مساعی پر سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔