.

امریکا کی قیادت میں اتحاد نے شام میں فضائی حملے میں ہلاکتوں کی تردید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اطلاع دی ہے کہ مشرقی صوبے الحسکہ میں سوموار کو ایک اسکول پر امریکا کی قیادت میں اتحاد کے فضائی حملے میں 18 عراقی مہاجرین ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ اتحاد نے اس حملے کی تردید کردی ہے۔

شامی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دریائے فرات اور عراقی سرحد کے درمیان واقع ایک اسکول پر فضائی حملہ کیا گیا ہے۔اس علاقے میں داعش کے جنگجوؤں کا کنٹرول ہے اور ان کے خلاف امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) کے جنگجو لڑرہے ہیں۔

امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد کے ترجمان کرنل سیان ریان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’شامی ٹی وی کی یہ رپورٹ بالکل غلط ہے۔ الحسکہ میں اتحاد نے آج کوئی فضائی حملہ کیا ہے اور نہ اس میں شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں یا وہ زخمی ہوئے ہیں‘‘۔

برطانیہ میں قائم شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ امریکا کے حمایت یافتہ جنگجوؤں نے لڑائی کے بعد الحسکہ کے اس گاؤں پر قبضہ کرلیا ہے لیکن اس نے فضائی حملے میں شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی ہے۔

گذشتہ ہفتے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے ایک رپورٹ جاری کی تھی اور اس میں کہا تھا کہ امریکا کی قیادت میں اتحاد نے گذشتہ سال داعش کے مضبوط گڑھ الرقہ پر فضائی حملوں کے وقت بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا تھا اورعام شہریوں کی زندگیوں کو خطرے سے دوچار کردیا تھا۔

لیکن اتحاد نے اس رپورٹ کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ وہ فضائی حملوں کے وقت غیر معمولی احتیاط کا مظاہرہ کرتا رہا تھا تاکہ شہریوں کی جانوں کو بچایا جاسکے۔

شامی کردوں اور عرب ملیشیا پر مشتمل شامی جمہوری فورسز نے دریائے فرات کے مشرقی کنارے کے علاقے میں داعش کے خلاف حالیہ ہفتوں کے دوران میں دوبارہ مہم شروع کررکھی ہے۔اس کے بعد سے ان کی داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ شدید لڑائی جاری ہے۔

ایس ڈی ایف نے امریکی اتحاد کی مدد سے گذشتہ سال شام کے بہت سے مشرقی اور شمالی علاقے داعش سے واگزار کرا لیے تھے اور اب وہاں ان کا کنٹرول ہے۔تاہم فرات کے مشرق میں واقع بعض صحرائی علاقوں پر ابھی تک داعش کا کنٹرول برقرار ہے اور دریا کے مغربی کنارے کے علاقے میں داعش کی شامی فوج کے خلاف لڑائی جاری ہے۔