.

عراق نے جرمن دوشیزہ کے مشتبہ کرد قاتل کو کیسےجرمن حکام کے حوالے کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی میں ایک دوشیزہ کو عصمت ریزی کے بعد قتل کرکے عراق بھاگ آنے والا مشتبہ کرد قاتل دوسرے روز ہی پکڑا گیا ہے اورا س کو عراقی حکام نے جرمن طیارے کے ذریعے واپس فرینکفرٹ بھیج دیا ہے۔

کرد پولیس کے روبرو مشتبہ ملزم علی بشار نے چودہ سالہ جرمن لڑکی کو قتل کرنے کا اقرار کر لیا ہے۔اس نے مبینہ طور پر جرمنی کے مغربی شہر ویس بیڈن میں اس دوشیزہ سوسانا ماریا فیلڈمین کی عزت لوٹی تھی اور اس کے بعد دونوں ہاتھوں سے گلا گھونٹ کر اس کو موت کی نیند سلا دیا تھا۔واقعے کے بعد وہ عراق کے خود مختار علاقے کردستان میں واپس آگیا تھا مگر وہ اپنے آبائی صوبے دہوک میں پکڑا گیا ہے۔

کردستان کے صوبہ دہوک کے پولیس سربراہ طارق احمد نے بتایا ہے کہ ’’اس نوجوان نے تفتیش کے دوران میں جرمن لڑکی کے قتل کا اعتراف کرلیا ہے۔اس نے بتایا ہے کہ ’’وہ دونوں دوست تھے لیکن ان کے درمیان ایک تنازع پیدا ہوگیا تھا۔اس پر لڑکی نے پولیس کو بلانے کی دھمکی دی تھی جس پر اس نے طیش میں آ کر اس کو قتل کردیا تھا‘‘۔

سوسانا کی لاش گذشتہ بدھ کو ویس بیڈن میں ایک پناہ گزین مرکز کے نزدیک سے ملی تھی۔ مشتبہ عراقی کرد قاتل اسی مرکز میں مقیم تھا۔لاش کے طبی ملاحظے سے پتا چلا ہے کہ مقتولہ کی عصمت ریزی بھی کی گئی تھی۔

جرمن میڈیا کے مطابق اس پناہ گزین مرکز میں مقیم ایک اور شخص نے پولیس کو واقعے کی اطلاع دی تھی اور بتایا تھا کہ اس واردات میں ملوث عراقی کرد مرکز سے غائب ہے۔اس کے بعد جرمنی نے علی بشار کے بین الاقوامی وارنٹ گرفتار ی جاری کردیے تھے۔

جرمنی سے اربیل فرار

قتل کے اس واقعے پر جرمن شہری صدمے ہی سے دوچار نہیں ہوئے بلکہ انھیں یہ جان کر مزید حیرت ہوئی ہے کہ ملزم عراقی اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ہمراہ جرمنی سے فرار ہوکر واپس عراق پہنچنے میں بھی کامیاب ہوگیا اور پولیس کے بہ قول اس نے یہ سفر جعلی نام سے کیا ہے۔اس پر جرمن پولیس کو کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

دہوک کے پولیس سربراہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جرمن حکومت نے اس واقعے کے بعد کردستان کی علاقائی حکومت سے ملزم کی حوالگی کے لیے رابطہ کیا تھا اور ان کے درمیان بھرپور رابطوں کے بعد اس کی جرمنی واپسی ممکن ہوسکی ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ علی بشار جرم کے بعد اپنے خاندان سمیت جرمنی سے فرار ہو کر کردستان کے علاقائی دارالحکومت اربیل آگیا تھا اور اس نے جرمن حکام کے سامنے یہ بہانہ کیا تھا کہ اس کے والد علیل ہیں اور انھیں مرنے سے پہلے رشتے داروں سے ملوانے کے لیے عراق جانے کی اجازت دے دی جائے۔

جرمن میڈیا کی رپورٹ کے مطابق عراق اور جرمنی کے درمیان مشتبہ افراد کو ایک دوسرے کے حوالے کرنے کا کوئی باقاعدہ معاہدہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود جرمنی کی قومی فضائی کمپنی لفتھانسا کی ایک پرواز کے ذریعے ملزم علی بشار کو اربیل سے جرمنی واپس لے جایا گیا ہے۔

اس کو پہلے اس پرواز کے ذریعے جرمن شہر فرینکفرٹ لے جایا گیا ہے جہاں اس کی ریمانڈ کی سماعت متوقع تھی۔ پھر اس کو پولیس نے ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے ویس بیڈن میں منتقل کرنا تھا جہاں اس کے خلاف لڑکی کے قتل اور عصمت ریزی کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا۔