خامنہ ای کا بیٹا اور قاسم سلیمانی بغداد میں کیا کر رہے ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراقی دارالحکومت بغداد میں اتوار کے روز الیکشن کمیشن کے ڈپو میں آتش زدگی کے واقعے کے چند گھنٹے بعد ہی بغداد میں ایرانی سفارت خانے کے صدر دفتر میں ایرانی سفیر ایرج مسجدی نے افطار کے دسترخوان پر ایرانی رہبر اعلی کے بیٹے مجتبی خامنہ ای ، القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی ، سابق عراقی وزیر اعظم نوری المالکی اور عراقی انتخابی اتحاد الفتح کے سربراہ ہادی العامری کی میزبانی کی۔

عراقی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ افطار کے اس بڑے اہتمام کے موقع پر سینئر ایرانی رہ نماؤں کے علاوہ عراقی شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کی قیادت اور عراقی انتخابی اتحادوں الفتح اور اسٹیٹ آف لاء کے سیاسی ذمے داران موجود تھے۔

مذکورہ ذرائع کے مطابق اس مجلس میں بات چیت کا محور سب سے بڑے سیاسی گروپ کی تشکیل کا مستقبل تھا جو آئندہ حکومت تشکیل دے سکے۔ اسٹیٹ آف لاء گروپ کے پاس 29 نشستیں، الفتح گروپ کے پاس 48 نشستیں، کرُد گروپوں کی 43 نشستیں اور چند چھوٹے گروپ جو اسٹیٹ آف لاء اتحاد کا حصہ بننا چاہتے ہیں ان سب کی مجموعی نشستیں 120 سے زیادہ بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ وزیراعظم حیدر العبادی کی سربراہی میں النصر اتحاد کی قیادت سے براہ راست رابطہ کیا جا رہا ہے تا کہ اس کو بھی متوقع بلاک میں شامل کر کے مجموعی تعداد 175 نشستوں تک پہنچا دی جائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عراقی امور میں ایرانی مداخلت کا سلسلہ واضح طور پر جاری ہے اور اس حوالے سے کوششیں کی جا رہی ہیں کہ مقتدی الصدر، عمار الحکیم اور ایاد علاوی کے مشترکہ اتحاد پر برتری حاصل کی جائے جس کی نشستوں کی تعداد 102 سے زیادہ نہیں۔

سیاسی تجزیہ کار عبدالرحمن النعیمی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "2018ء کے انتخابات میں رسہ کشی کا محور سابقہ انتخابات سے مختلف ہے۔ انتخابات میں کسی فریق کی قطعی جیت نہ ہونے کی صورت میں سب سے بڑا بلاک بنانے کا سہارا لیا جائے گا تا کہ حکومت تشکیل دی جا سکے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اس صورت حال میں صرف یہ امر پیچیدگی کا باعث نہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشمکش جاری ہے بلکہ اثر و رسوخ کے حوالے سے بھی رسہ کشی ہو رہی ہے کہ یدِ طولی کس کا ہو گا"۔ النعیمی کے مطابق پارلیمنٹ نے انتخابی قانون میں ترمیم کر کے ایک بارودی سرنگ بچھا دی ہے جو جلد یا بدیر پھٹ کر سامنے آئے گی۔

ادھر ایک دوسرے سیاسی تجزیہ کار امجد العبادی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "مقتدی الصدر کا سائرون گروپ پارلیمانی انتخابات کے نتائج میں سرفہرست ہے۔ تاہم گروپ کی نشستیں اس کے لیے امتیازی حیثیت سے زیادہ بوجھ کی صورت اختیار کر سکتی ہیں"۔ دوبارہ انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے العبادی کا کہنا ہے کہ "عراقی ووٹر مختصر مدت میں دوبارہ گھر سے نکل کر ایک مضحکہ خیز تھیٹر کا نمائندہ بننا پسند نہیں کرے گا جب کہ پارلیمنٹ اور حکومت کی مدت میں توسیع بھی ایک غیر آئینی اقدام ہو گا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں