سعودی عالم نے "سینئر علماء کمیٹی" میں خواتین مُفتیات کے تقرر کا مطالبہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں علماء کرام کی سینئر کمیٹی "ہیئۃ کبار العلماء" کے رکن شیخ عبداللہ المطلق نے سعودی مفتی اعظم الشیخ عبدالعزیز آل الشیخ سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ کمیٹی میں خواتین "مُفتیات" کے تقرر کی منظوری دی جائے۔

شیخ المطلق نے یہ بات پیر کے روز المجد چینل پر اپنے پروگرام کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ "میں جناب مفتی اعظم سے التماس کرتا ہوں کہ امام محمد بن سعود اسلامک یونی ورسٹی اور اُمّ القری یونی ورسٹی وغیرہ سے شریعہ اسلامیہ میں فارغ التحصیل خواتین کو کمیٹی میں بھرتی کیا جائے تا کہ حیض و نفاس کے مسائل کو زیادہ بہتری کے ساتھ بتایا جا سکے۔ ان فقہی معاملات میں خواتین ہم سے زیادہ جاننے والی ہیں۔ اس طرح سوال پوچھنے والی مستورات کو زیادہ پردے اور راحت کے ساتھ جواب حاصل کرنے کا موقع میسر آئے گا"۔

شیخ المطلق کا مزید کہنا تھا کہ "مرد ہونے کے ناتے ہمارے پاس حیض و نفاس کے علاوہ بہت سے مسائل ہوتے ہیں۔ لہذا میں مفتی اعظم صاحب سے درخواست کروں گا کہ افتاء کمیٹی ایسی خواتین کے ساتھ معاہدہ کرے جو ان کے نزدیک افتاء کی اہل ہوں"۔

شیخ المطلق نے بتایا کہ اُن کی بیٹیاں اور بیگمات خواتین کے خصوصی مسائل کا جواب دینے میں اُن کی مدد کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "صرف حیض کو ہی لے لیا جائے تو اس کا تعلق اسلام کے تین ارکان نماز، روزہ اور حج کے ساتھ بنتا ہے اور خواتین اپنے مسائل عالمات کو مرد مفتیان کے مقابلے میں زیادہ تفصیل کے ساتھ بتاتی ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں