لیبیا: قذافی دور کے متعدد انٹیلی جنس افسر جیل سے رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت انصاف نے سابق مقتول لیڈر معمر قذافی دور کے متعدد عہدیداروں سمیت بعض سیاسی قیدیوں کو عارضی طورپر جیلوں سے رہا کردیاگیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لیبیا کے پراسیکیوٹر جنرل کےتحقیقات سے متعلق ڈائریکٹر کے مطابق سابق رجیم کے عہدیدار اور سیاسی رہ نماؤں کو خرابی صحت کی بناء پر رہا کیا گیا ہے۔

مقامی اخبارات میں شائع اس بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت قانون وانصاف کے زیراہتمام قیدیوں کی رہائی کے امورکی نگران کمیٹی نے بعض قیدیوں کو رہا کرنے کی سفارش کی تھی۔ ان میں مقتول معمر قذافی کے دور میں انٹیلی جنس سے وابستہ بعض عہدیدار بھی شامل ہیں۔

رہائی پانے والوں میں قذافی دور کے بیرون ملک انٹیلی جنس افسر ابو زید دوردہ، سابق ملٹری انٹیلی جنس افسر عبدالحمید اوحیدا عمار، سابق پائلٹ جبریل الکادیکی، جمال الشاھد اور دیگر عہدیدار شامل ہیں۔

پراسیکیوٹر جنرل کے تفتیشی امور کے ڈائریکٹرصدیق الصور نے ایک بیان میں بتایا کہ طویل عرصے سے حراست میں رہنے کے باعث ان قیدیوں کی صحت پر برے اثرات مرتب ہوئے تھے۔ انہیں کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنا ضروری تھا تاہم عارضی طورپر انہیں جیل سے رہا کیا گیا ہے۔ ضرورت پڑنے پر انہیں دوبارہ گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

رہا کئے گئے سابق انٹیلی جنس حکام پر سنہ 2011ء میں معمر قذافی کے خلاف عوامی بغاوت کچلنے کے لیے طاقت کے استعمال اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں