.

حیدر العبادی نے پارلیمانی انتخابات کے دوبارہ انعقاد کی مخالفت کردی

ملک میں سیاسی عمل کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کرنے والوں کو سزا دی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے ملک میں پارلیمانی انتخابات کے دوبارہ انعقاد کی مخالفت کردی ہے اور خبردار کیا ہے کہ جو کوئی بھی سیاسی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرے گا ،اس کو سزا دی جائے گی ۔

حیدر العباد ی نے منگل کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ صرف سپریم فیڈرل کورٹ ہی پارلیمانی انتخابات کے لیے دوبارہ پولنگ کا فیصلہ کرسکتی ہے۔انھوں نے کہا:’’ یہ معاملہ اب عدلیہ کے ہاتھ ہے ،سیاست دانوں کے ہاتھ میں نہیں رہا ہے۔حکومت اور پارلیمان کے پاس انتخابات کو منسوخ کرنے کا اختیار نہیں ہے‘‘۔

عراق کے سرکردہ سیاسی رہ نما مقتدیٰ الصدر نے سوموار کو ایک بیان میں اپنے ہم وطنوں پر زور دیا تھا کہ وہ دوبارہ انتخابات پر لڑنے کے بجائے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔اس طرح انھوں نے بیلٹ باکسوں کے گودام میں آتش زدگی کے واقعے کے بعد عراقی سیاست دانوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔

حیدر العبادی نے کہا کہ بیلٹ باکسوں کو جان بوجھ کر آگ لگائی گئی تھی اور اب اٹارنی جنرل سیاسی عمل کو نقصان پہنچانے والے لوگوں کے خلاف فردِ الزام عاید کریں گے۔

عدلیہ نے بیلٹ باکسوں کے گودام کو آگ لگانے کے الزام میں چار افراد کی گرفتاری کا حکم دیا تھا ۔ان میں تین پولیس اہلکار ہیں اور ایک آزاد اعلیٰ الیکٹورل کمیشن کا رُکن ہے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ آتش زدگی کے اس واقعے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق بغداد کے علاقے الرصافہ میں واقع گودام کے اندر مختلف جگہوں پر گیسو لین موجود ہونے کے ثبوت ملے ہیں اور وہاں نصب سکیورٹی کیمرے واردات سے قبل ناکارہ کردیے گئے تھے اور کوئی تالا نہیں توڑا گیا تھا جس سے لگتا ہے کہ آگ اسی شخص نے لگائی تھی جس کو گودام تک رسائی حاصل ہے۔

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ گودام میں آگ لگنے کے بعد وہاں رکھے بیلٹ باکسز کو ہٹا لیا گیا ہے لیکن آتش زدگی کے واقعے کے بعد ان شبہات کا اظہار کیا گیا ہے کہ عام انتخابات میں ہونے والی بے ضابطگیوں کو چھپانے کے لیے ہی بیلٹ باکسوں کو جلا یا گیا ہے۔

نیوز کانفرنس میں حیدر العبادی نے مقتدیٰ الصدر کی جانب سے اپنے حامیوں سے ہتھیار واپس لینے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’میں سید مقتدیٰ کے اس اعلان کو سراہتا ہوں جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ان کے پیروکاروں کے پاس ریاست کے فریم ورک کے باہر ہتھیار نہیں ہوں گے‘‘۔

انھوں نے صدر سٹی میں ہتھیاروں کی ایک ذخیرہ گاہ میں گذشتہ ہفتے ہونے والے دھماکے کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک جُرم ہے اور اس کے ذمے داروں کو سزا ملے گی۔