.

عراق : حیدر العبادی کا راستہ روکنے کے لیے مقتدی الصدر اور ہادی العامری کا حیران کُن اتحاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں پارلیمانی انتخابات کے نتائج میں سرفہرست رہنے والے دونوں گروپوں سائرون اور الفتح کے سربراہوں مقتدی الصدر اور ہادی العامری نے منگل کی شب حیران کن طور پر اپنے اتحاد کا اعلان کر دیا۔ اس اتحاد کا مقصد حکومت تشکیل دے کر آئندہ چار برسوں کے لیے اقتدار سنبھالنا ہے۔

اس اتحاد نے عراق میں سیاسی کارڈز کو خلط ملط کر دیا ہے اور یہ موجودہ وزیراعظم حیدر العبادی کی حکمرانی جاری رہنے کے حوالے سے امیدوں پر پانی پھیر دے گا۔

عراق میں 12 مئی کو ہونے والے انتخابات کے بعد مقتدی الصدر کے "سائرون" الائنس نے حیران کن طور پر سب سے زیادہ 54 نشستیں حاصل کیں۔ اس کے بعد ہادی العامری کا "الفتح" الائنس 47 نشستوں کے ساتھ دوسرے اور حیدر العبادی کا گروپ 42 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ ہادی العامری کو ایران نواز شیعہ عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کا ایک نمایاں ترین رہ نما شمار کیا جاتا ہے۔

نجف میں ہادی العامری کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں مقتدی الصدر نے بتایا کہ حکومت کی جلد از جلد تشکیل کے لیے سائرون اور الفتح کے درمیان حقیقی اتحاد عمل میں لایا گیا ہے۔

دوسری جانب ہادی العامری نے کہا کہ "یہ اتحاد تمام لوگوں کو قومی اُفق کی جانب ایک دعوت ہے۔ حکومتی پروگرام کو تحریر کرنے میں تیزی کا مظاہرہ ہو گا اور بعد ازاں اس پر اتفاق رائے ہو گا"۔

نجف کے اعلان نے عراق میں سیاسی طبقے کو حیران کُن دھچکا پہنچایا ہے کیوں کہ اس سے پہلے مقتدی الصدر یہ عندیہ دے چکے تھے کہ وہ العامری کے ساتھ اتحاد نہیں کریں گے۔

ایرانی پاسداران انقلاب میں القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی نے انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد بغداد کا دورہ کیا۔ سلیمانی نے الفتح الائنس سمیت تمام شیعہ سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ وہ الصدر کے ساتھ اتحاد نہ کریں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ الصدر کی پالیسی تہران کی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتی۔

گزشتہ ہفتے مقتدی الصدر نے ملک کے نائب صدر ایاد علاوی اور عمار الحکیم کے گروپوں کے ساتھ ایک اتحاد تشکیل دینے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس اتحاد کی مجموعی نشستوں کی تعداد سو کے قریب ہو گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آئندہ حکومت میں وزیراعظم کی نامزدگی کے لیے مطلوب پارلیمنٹ کی مجموعی 329 نشستوں کی آدھی تعداد سے اب بھی کافی دُور ہے۔