.

یمن : الحدیدہ کی آزادی کے لیے آپریشن کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں نے بدھ کو علی الصبح مغربی شہر الحدیدہ اور اس کی بندرگاہ کو آزاد کرانے کے لیے معرکے کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ فوجی آپریشن میں عرب اتحاد کی معاونت بھی حاصل ہے۔ یہ اقدام حوثی ملیشیا کی جانب سے پر امن حلوں کو قبول کرنے سے انکار کے بعد سامنے آیا ہے۔

ایک عسکری ذریعے کے مطابق زمینی کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع ہے جس میں عرب اتحاد کی جانب سے فضائی اور بحری سپورٹ شامل ہے۔ الحدیدہ شہر کی جانب ایک سے زیادہ سمت سے پیش قدمی کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ شہر کے مضافات میں زور دھماکے سنے گئے ہیں۔

عسکری آپریشن کے آغاز کے ساتھ یمنی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ "الحدیدہ کی بندرگاہ سے حوثی ملیشیا کو باہر لانے کے لیے تمام تر پُر امن اور سیاسی وسائل بروئے کار لائے گئے"۔ حکومت کا کہنا ہے کہ "الحدیدہ کی آزادی حوثیوں کے سقوط کا آغاز ہو گا اور اس کے نتیجے میں آبنائے باب المندب میں بحری جہاز رانی محفوظ ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ایران کے ہاتھ بھی کٹ جائیں گے جس نے یمن کو ہتھیاروں میں غرق کر دیا اور یمنیوں کی قیمتی جانیں خون ریزی کا شکار ہوئیں"۔

گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران یمنی فوج نے الحدیدہ شہر کے بیرونی اطراف بڑے پیمانے پر عسکری کُمک جمع کی تا کہ شہر کو آزاد کرانے کے لیے فیصلہ کن معرکہ شروع کیا جا سکے۔

ادھر عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ الحدیدہ کو آزادی کرانے کے معرکے کے سلسلے میں عسکری حکمت عملی میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ کسی طور بھی شہریوں اور انفرا اسٹرکچر کو نقصان نہ پہنچے۔