.

علی صالح کے قتل سے چند گھنٹے پہلے کی وڈیو پہلی بار منظر عام پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے ایک ٹی وی چینل "یمن الیوم" نے جمعرات کی شام پہلی مرتبہ سابق صدر علی عبداللہ صالح کا ایک خطاب نشر کیا جو انہوں نے دسمبر 2017ء میں دارالحکومت صنعاء میں باغی حوثی ملیشیا کے ہاتھوں قتل ہونے سے چند گھنٹے پہلے کیا تھا۔

سابق صدر کے زیر انتظام چینل پر نشر خطاب میں علی صالح نے یمنیوں سے حوثی ملیشیا کے خلاف ایک سخت جان عوامی مزاحمت کا مطالبہ کرتے ہوئے باغیوں کو ملک میں لوٹ مار اور تباہی و بربادی کا ذمّے دار ٹھہرایا۔ علی صالح نے باور کرایا کہ حوثی ملیشیا ہی سعودی عرب کے زیر قیادت عرب اتحاد کی یمن میں مداخلت کا سبب ہے۔

حوثی ملیشیا کے ساتھ 3 سالہ انقلابی اتحاد میں شریک رہنے کے بعد علاحدہ ہونے والے سابق یمنی صدر نے ملیشیا پر یمنیوں میں فرقہ وارانہ سوچ پھیلانے، ملازمین کی تنخواہیں لوٹ لینے اور ملک میں بدعنوانی اور نسل پرستی پھیلانے کا الزام عائد کیا۔

علی صالح نے یہ خطاب صنعاء میں اپنے گھر کے اندر ریکارڈ کرایا۔ اس دوران واضح طور پر جھڑپوں کی آوازیں سنائی دی جاتی رہیں جو سابق صدر کے بقول اُن کی رہائش گاہ سے 150 میٹر کی دُوری پر جاری تھیں۔

سابق صدر نے حوثیوں کی کارستانیوں سے براءت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "اگر میرے لیے شہادت لکھ دی گئی ہے تو میں اپنے عوام اور وطن کے بیچ اس کا منتظر ہوں۔ یمنی عوام آپ حوثیوں کے خلاف انقلاب لاؤ جنہوں نے آپ کی عزت نفس اور آزادی کو پامال کیا"۔

یمن میں انقلاب کے دونوں فریقوں (علی صالح اور حوثیوں) کے بیچ اختلافات گزشتہ برس کے وسط میں اپنے عروج پر پہنچ گئے تھے۔ اس کے بعد صالح نے حوثیوں کے ساتھ اپنا اتحاد ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور دارالحکومت صنعاء میں فریقین کے درمیان عسکری جھڑپیں اور لڑائی شروع ہو گئی۔ اس لڑائی کا اختتام دسمبر میں علی صالح کے مارے جانے پر ہوا۔

سابق صدر کے قتل کے بعد حوثی ملیشیا نے علی صالح کے عزیز و اقارب اور ہمنوا افراد کے خلاف وسیع پیمانے پر اغوا اور قتل کی مہم کا آغاز کر دیا۔ علی صالح کے دو بیٹے صلاح اور مدین اس وقت بھی حوثیوں کی حراست میں ہیں۔