.

ایران میں سفیر نامزد نہیں کریں گے ، سعودی عرب کا امن ہمارا امن ہے : اردن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے ایک اعلی سطح کے عہدے دار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ اُن کا ملک کابینہ کے فیصلے کے بعد تہران کے لیے کسی نئے سفیر کو نامزد نہیں کرے گا۔

اردن نے ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ پہلے تہران میں اپنے سفیر عبدالله سليمان ابو رمان کو ایرانی دارالحکومت سے واپس بلا کر عَمّان میں وزارت خارجہ کے صدر دفتر میں متعین کر دیا تھا۔ اب اردن کی کابینہ کی جانب سے کسی بھی متبادل سفیر کی عدم نامزدگی کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔

مذکورہ ذریعے کے مطابق فی الوقت تہران میں کسی دوسرے اردنی سفیر کی نامزدگی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

اسی سلسلے میں العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے اردن کی وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے باور کرایا ہے کہ "مملکت سعودی عرب کا امن و استحکام درحقیقت اردن کا امن و استحکام ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "خطے کے ممالک کے معاملات میں ایرانی مداخلت کو مسترد کرنے سے متعلق اردن اپنے موقف پر ثابت قدم ہے۔ سعودی عرب اور اردن ایک دوسرے کے لیے تزویراتی اہمیت کے حامل ہیں۔ جو کوئی بھی ہمارے ممالک کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بنے گا ہم اس کے راستے میں کھڑے ہو جائیں گے"۔

ادھر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایران میں اردن کے سفیر درحقیقت عَمّان میں موجود ہیں۔ ان کو "عرب امور میں ایرانی مداخلتوں" کے پس منظر میں ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ پہلے مشاورت کے لیے واپس بلا لیا گیا تھا۔

اردنی عہدے دار نے واضح کیا کہ ایران کی پالیسیاں ہمیں ناقابل قبول ہیں جو برادر عرب ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور اچھی ہمسائیگی کے بنیادی اصولوں کو نقصان پہچانے والی ہیں۔