.

اسامہ بن لادن کا ڈرائیور ابو سفیان قمو لیبیا کے شہر درنہ سے گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی فوج نے القاعدہ کے مقتول رہنما اسامہ بن لادن کے ڈرائیور ابو سفیان قمو کو ہفتے کے روز گرفتار کر لیا۔ لیبی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے "العربیہ" کو بتایا کہ قمو کو درنہ کے علاقے میں انتہا پسندوں کے ایک ٹھکانے پر چھاپہ مار کارروائی کے بعد حراست میں لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ابو سفیان کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب اس کے گروپ کے پاس اسلحہ ختم ہو گیا جسے وہ اپنے ٹھکانے سے فوج کے خلاف کارروائی میں استعمال کر رہا تھا۔

انسٹھ سالہ بن قمو کا شمار القاعدہ کے سرکردہ رہنماوں میں ہوتا ہے۔ ابو سفیان اسی کی دہائی میں لیبیا کے اندر اپنا کام کاج چھوڑ کر اسامہ بن لادن سے وابستہ ہو گیا تھا۔ وہ سوڈان کے راستے افغانستان پہنچا جہاں اسے القاعدہ کے تربیتی کیمپوں میں تربیت فراہم کی گئی، جس کے بعد وہ القاعدہ کا نمایاں رہنما بن گیا اور اسی حیثیت میں اس نے متعدد جنگوں میں حصہ لیا۔

سوڈان میں اسامہ بن لادن کے قیام کے دوران قمو ان کے ذاتی ڈرائیور کے طور پر خدمات سرانجام دیتا رہا۔ وہ تنظیم کے اہم افراد کے ساتھ بھی کام کرتا رہا، تاہم بعد میں اسے امریکی فوج نے گرفتار کر کے کیوبا میں بدنام زمانہ حفاظتی مرکز گوانتانامو بے منتقل کر دیا، جہاں وہ کئی برس تک قید میں رہا ، پھر اسے لیبیا بھیج دیا گیا۔ لیبیا میں وہ ابو سالم جیل میں اپنا باقی وقت گذار رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق دو ہزار گیارہ میں باغیوں کے ہاتھوں طرابلس کے سقوط کے وقت قمو جیل سے فرار ہو کر اپنے آبائی قصبے درنہ آ گیا جہاں اس نے انصار الشریعہ نامی انتہا پسند گروپ قائم کیا۔

تاہم گذشتہ سات برسوں سے وہ ایک انتہا پسند گروپ کا ایک نمایاں رکن رہا، تاہم اس مدت میں وہ کبھی بھی لائم لائٹ میں نہیں رہا۔