شام: فضائی حملے میں بشار کی ہمنوا فورسز کے 52 ارکان ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں عراق کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے الہری میں اتوار کی شب ہونے والے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 52 ہو گئی ہے۔ انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد السوری کے مطابق مارے جانے والے افراد بشار حکومت کے ہمنوا ہیں جن میں زیادہ تعداد عراقیوں کی ہے۔

المرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے بتایا کہ شامی حکومت کے ہمنوا 52 جنگجوؤں میں 30 کا تعلق عراق سے اور 16 کا شام سے ہے۔ حملے کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ مشرقی صوبے دیر الزور کے قصبے الہری میں ایک فوجی قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ دمشق حکومت نے امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد پر اس کارروائی کا الزام عائد کیا۔

تاہم امریکی مرکزی کمان کے ترجمان اس کی تردید کی ہے۔ اس سے قبل شامی سرکاری ٹیلی وژن نے اعلان کیا تھا کہ امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد نے ملک کے مشرق میں شامی فوج کے ایک ٹھکانے پر حملہ کیا۔ اس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔

یاد رہے کہ بین الاقوامی اتحاد داعش کے خلاف سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے معرکے میں سپورٹ کے لیے فضائی حملے کرتا ہے۔

المرصد نے باوثوق ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ دیر الزور صوبے کے دیہی علاقے میں ایک وسیع فوجی آپریشن کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

المرصد کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق داعش تنظیم البوکمال سے لے کر المیادین تک کے علاقے میں دریائے فرات کے مغربی کنارے کی جانب اپنے عناصر اور گاڑیوں کو اکٹھا کر رہی ہے۔ تنظیم اب شامی حکومتی فورسز، ایرانی فورسز، لبنانی حزب اللہ اور ان سب کے ہمنوا مسلح عناصر کے خلاف ایک بھرپور حملے کی تیاری کر رہی ہے۔ مسلح عناصر میں شامی اور غیر شامی جنگجو شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں