البوکمال حملے میں الحشد ملیشیا کا اڈہ نشانہ بنا، 22 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کی شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی نے سوموار کو جاری ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ شام کے سرحدی علاقے البوکمال میں اس کے ایک مستقل اڈے پربمباری کی گئی جس کے نتیجے میں الحشد ملیشیا کے 22 جنگجو ہلاک ہوئے۔

الحشد ملیشیا نے البوکمال شہر میں ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری امریکا اور اس کے اتحادیوں پرعاید کی ہے۔ اس سے پیشتر شامی حکومت بھی البوکمال میں ہونے والی فضائی بمباری کی ذمہ داری عالمی فوجی اتحاد پر عاید کرچکی ہے۔

الحشد ملیشیا کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اتوار کے روز مبینہ طورپر امریکی جنگی طیاروں نے عراق اور شام کی سرحد پر واقع البوکمال شہر میں تنظیم کے ایک مستقل مرکز پر بمباری کی گئی۔ یہ مرکز الحشد ملیشیا کے بریگیڈ 45 اور 46 کا اڈہ ہے۔ اس مرکز کو ڈرون طیاروں کے ذریعے داغے گئے میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 22 جنگجو ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے۔

قبل ازیں انسانی حقوق آبرز ویٹری کی طرف سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا تھا کہ البوکمال شہر میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں 52 افراد ہلاک ہوئے جن میں 30 عراق سے جب کہ 16 شام سے تعلق رکھتے ہیں۔

شامی حکومت نے اس حملے کی ذمہ داری امریکا اور اس کے اتحادیوں پرعاید کی تھی تاہم امریکا نے ان حملوں سے لاعلمی کا اظہار کرتے البوکمال میں بمباری کا الزام مسترد کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں