.

یمن کی حکومت نےانٹرنیٹ سروسز پرحوثیوں کی اجارہ داری ختم کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی قانونی حکومت نے ملک بھرمیں انٹرنیٹ سروسز پرایران نواز حوثی گروپ کی اجارہ داری ختم کرتے ہوئے نئی ٹیلی کمیونیکیشن وانٹرنیٹ کمپنی کا افتتاح کیا ہے۔ اس نئی ٹیلی کام کمپنی کا صدر دفتر فی الحال عبوری دارالحکومت عدن میں ہوگا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 4G انٹرنیٹ اور موبائل فون کی سہولت مہیا کرنے والی نئی کمپنی کا افتتاح صدر عبد ربہ منصور ھادی نے کیا۔ منصوبے پر 93ملین پانچ لاکھ 12 ہزار ڈالر کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے یمنی وزیراعظم احمد بن دغر نے کہا کہ نئی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے افتتاح کے نتیجے میں ملک میں انٹرنیٹ سروسز پر حوثیوں کی اجارہ داری ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں نے دیگر اداروں میں لوٹ مار کی طرح ٹیلی کام کے محکمے میں بھی بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی ہے مگر نئی کمپنی سے حاصل ہونے والا ریوینیو مرکزی بنک میں جمع کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ سنہ 2014ء کو یمنی باغیوں نے صنعاء سے آئینی حکومت کو نکال باہر کرنے کے بعد انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں سمیت دیگر تمام اداروں پرقبضہ کرلیا تھا۔ اس کے بعد سے ملک میں انٹرنیٹ سروسز پر حوثیوں کی اجارہ داری چلی آ رہی ہے۔