.

بغداد میں عراقی پولیس کی ایران نواز حزب اللہ ملیشیا سے جھڑپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی پولیس نے دارالحکومت بغداد میں ایران نواز ملیشیا حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹرز کا محاصرہ کر لیا اور مسلح جھڑپ کے بعد اس کے ایک کارکن کو گرفتار کر لیا ہے۔جھڑپ میں تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

عراق کی وزارت داخلہ کے ایک عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ بغداد میں پولیس نے ایران نواز ملیشیا حزب اللہ بریگیڈ کے قافلے میں شامل ایک کار کو روکا تو قافلے میں شامل افراد اور پولیس اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔

اس کے بہ قول پانچ گاڑیوں پر سوار افراد نے فائرنگ شروع کردی تھی اور پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی جس سے دو پولیس اہلکار اور حزب اللہ کا ایک رکن زخمی ہوگیا ہے۔

اس واقعے کے بعد پولیس نے حزب اللہ ملیشیا کے بغداد میں ہیڈ کوارٹرز کا فوری طور پر محاصرہ کر لیا تھا اور شہر کی ایک مرکزی شاہراہ کو بھی بند کر دیا تھا۔پولیس نے فائرنگ کے واقعے کے ذمے دار شخص کی گرفتاری کے بعد محاصرہ ختم کردیا تھا۔بغداد میں گذشتہ کئی مہینوں کے بعد کسی مسلح ملیشیا اور عراقی فورسز کے درمیان جھڑپ کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

ایران نواز لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ پڑوسی ملک شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑرہی ہے ۔گذشتہ اتوار کو اسرائیل کی سرحد کے نزدیک علاقے میں اس ملیشیا کے جنگجوؤں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا جن کے نتیجے میں باون افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس علاقے میں شامی فورسز کی داعش کے بچے کھچے جنگجوؤں سے جھڑپیں ہورہی ہیں۔