.

شکست خوردہ حوثیوں نے دسیوں بچے جنگ میں جھونک دیے

الحدیدہ ہوائی اڈے کے بعد سرکاری فوج کی بندرگاہ کی جانب پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے ساحلی شہر الحدیدہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو ایران نواز حوثی شدت پسندوں سے واپس لینے کے بعد عرب اتحادی فوج اور یمن کی آئینی فوج نے الحدیدہ بندرگاہ کی آزادی کے لیے آْپریشن شروع کر دیا ہے۔ دوسری جانب شکست خوردہ حوثی ملیشیا کوافرادی قوت کی شدید قلت کا سامنا اور انہوں نے اس قلت پرقابو پانے کے لیے بچوں کو جنگ میں جھونکنا شروع کردیا ہے۔

’العربیہ‘ کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جنگ میں بڑی تعداد میں جنگجوؤں کی ہلاکتوں کے بعد حوثیوں نے بچوں کو جنگ کا ایندھن بنانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

ادھر سرکاری فوج الحدیدہ ہوائی اڈے کو حوثی شدت پسندوں سے واپس لینے کے بعد اس کے درو دیوار کو حوثیوں کے نعروں اور تصاویر سے پاک کررہی ہے۔ جب کہ بعض مقامات پر اکا دکا جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں نے الحدیدہ شہر کی کئی کالونیوں بالخصوص الربسہ، باب مشرف، کورنش اور دیگر مقامات کو سیل کردیا۔ باغی اپنے دفاع کے لیے مسلسل خندقیں کھود رہے ہیں تاکہ سرکاری اور عرب اتحادی فوج کی پیش قدمی کو روکا جاسکے۔ حوثیوں نے بڑے ہوٹلوں اور بڑی عمارتوں کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور چھوٹی سڑکوں پر حوثیوں کی فوجی گاڑیاں بھی دوڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔

فیلڈ ذرائع کے مطابق حوثی باغیوں نے نہ صرف شہری آبادی کو ڈھال بنا رکھا ہےبلکہ باغی شہریوں کو نقل مکانی سے روکنے کے لیے بھی سرگرم ہیں اور شہریوں کو نقل مکانی سے روکنے کے لیے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔