.

بیت المقدس سے مٹی کے ڈھیلے پرلکھا ایک ہزار سال پرانا تعویذ دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی ماہرین آثار قدیمہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں کھدائی کےدوران مسجد اقصیٰ المبارک سے متصل سلوان قصبے سے مٹی سے تیار کردہ ایک چھوٹی نایاب تختی دریافت کی ہے جس پر عربی زبان کے الفاظ درج ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مہر نہیں ہوسکتی. تاہم غالب امکان یہ ہے کہ یہ کوئی تعویذ ہے جو اس دورمیں تحفظ کے لیے لکھا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیل کے ایک ماہر آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ مٹی سے تیار کردہ اس ٹکڑے کا حجم ایک سینٹی میٹر ہے اور اس پر عربی زبان پرمشتمل دو سطریں واضح دیکھی جاسکتی ہیں۔ پہلی سطر میں’کریم یتکل علی اللہ‘ اور دوسری سطر میں’ اللہ رب العالمین‘ کے الفاظ منقش ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہ ظاہر یہ کسی تحریر کا حصہ یا دستاویزات کی مہر نہیں لگتا بلکہ یہ عباسی دور میں لکھا گیا کوئی تعویذ ہے کیونکہ اس دور میں اس خطے میں تعویذ گنڈے کا کلچر عام تھا اور یہ قریبا ایک ہزار سال پرانا تعویذ ہے۔

فلسطینی ماہر آثار قدینہ اور وزارت سیاحت کے سابق سیکرٹری ڈاکٹر حمدان طہ کا کہنا ہے کہ یہ ایک حیران کن دریافت ہے۔ اس سے ہم عباسی دور حکومت کے آخری زمانے کی روایات اور عقائد کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس طرح کے تعویذ نہ صرف عباسی دور میں تھے بلکہ آج ہمارے دور میں بھی موجود ہیں۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر طہ کا کہنا تھا کہ القدس میں اسرائیل کی کھدائیوں کے دوران اب تک ایسی ان گنت اشیاء اور دستاویزات ملی ہیں مگر صہیونی حکومت انہیں منظرعام پرنہیں لاتی۔ حالانکہ اسرائیل القدس میں دسیوں تاریخی اسلامی مقامات اور عرب تہذیب کے مراکز کی کھدائیاں کرچکا ہے۔ان میں قدیم یروشلم میں باب الخلیل، المغاربہ اور الشرف کالونیاں جیسے اہم اور تاریخی مقامات بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست القدس میں کھدائیوں کے ذریعے ایک تو پورے شہر کا نقشہ تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہے اور دوسری طرف وہ شہر میں یہودیوں کی قدیم تہذیب کی تلاش اور مزعومہ ہیکل سلیمانی کی بنیادوں کی تلاش میں ہے تاکہ اس کی آڑ میں دنیا کے سامنے القدس کو یہودیوں کا شہر ثابت کیا جاسکے۔ اسرائیلی محکمہ آثار قدیمہ کی القدس میں جاری کھدائیوں میں اسرائیل کی عبرانی یونیورسٹیوں کا تعاون بھی حاصل ہے۔

بیت المقدس میں خلافت بنو عباس کے دور کی کئی بڑی بڑی تاریخی عمارتیں تھیں۔ ایک سینٹی میٹر کا تاریخی ٹکڑا ان کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ان سے بھی قبل القدس میں اموی محلات، گرجا گھر اور سیکڑوں تاریخی مقامات شہر کے اسلامی اور عرب تشخص کی گواہی دیتے ہیں۔