.

شاہ سلمان ریلیف مرکز کے زیراہتمام جنگ سے متاثر80 یمنی بچوں کی بحالی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی شدت پسندوں کی جانب سے جنگ میں جھونکے بچوں کی بحالی کے لیے شاہ سلمان ریلیف سینٹر بحالی پروگرام کے پانچویں اور چھٹے مرحلے کا آغاز کردیا ہے۔ اس مرحلے میں جنگ سے متاثرہ 80 بچوں کو بحالی پروگرام سے گذارنے کے بعد ان کے گھروں کو بھیجا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ان بچوں کا تعلق یمن کے مختلف شہروں سے ہے۔ چوتھے مرحلے میں 161 بچوں کی بحالی کا عمل مکمل کیا گیا تھا جب کہ شاہ سلمان ریلیف مرکز یمن میں جنگ سے متاثرہ اور حوثیوں کی جانب سے جنگ میں جھونکے گئے کل 2000 بچوں کی بحالی کے پروگرام پر کام کررہا ہے۔

یمن میں بچوں کی بحالی کے جامع پروگرام کا دورانیہ ایک ماہ پر مشتمل ہوتا ہے جس میں بچوں کے نفسیاتی، تعلیمی، خانگی اور دیگر امور پرخصوصی توجہ دی جاتی ہے اور انہیں بہ حفاظت ان کے اہل خانہ سے ملایا جاتا ہے۔

یمن میں سنہ 2014ء سے مسلسل بغاوت جاری رکھنے والے حوثی شدت پسندوں کو شدید افرادی قلت کا سامنا ہے اور وہ اپنی افرادی قلت کو بچوں کو زبردستی جنگ میں اتار کر پوری کرنے مذموم کوشش کرتے ہیں۔ یمن کے مغربی ساحلی محاذ پر باغیوں کو بدترین شکست کا سامنا ہے اور اطلاعات ہیں کہ مزید شکست سے بچنے کے لیے باغیوں نے صنعاء سے تعلق رکھنے والے بچوں کو جنگ میں اتارنا شروع کردیا ہے۔

ادھر دوسری جانب یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والے ’آبزرویٹری الائنس‘ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ یکم جنوری سے 15 جون تک حوثی ملیشیا نے 305 بچوں کو جنگ میں جھونکا۔

جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یمن کے صنعاء، ذمار، عمران اور حجۃ شہروں میں حوثیوں نے 10 سے 17 سال کی عمر کے بچوں کو جنگ میں جھونکنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔