.

قطر تنہائی سے نکلنے کے لیے اسپورٹس کا کارڈ کھیل رہا ہے : سعودی شاہی مشیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر اس وقت ہر ممکن طور پر کوشش کر رہا ہے کہ وہ دوحہ کا بائیکاٹ کرنے والے چاروں عرب ممالک کے مشترکہ مطالبات سے فرار اختیار کرنے کے لیے سازگار فضا قائم کرے۔ ان مطالبات میں پڑوسی عرب ممالک کے ساتھ معاندانہ برتاؤ اور دہشت گردی کے لیے سپورٹ سے دست بردار ہونا شامل ہے۔

اس مرتبہ قطر نے کھیلوں کے میدان کا سہارا لیا ہے۔ دوحہ کی جانب سے بارہا یہ الزام تراشی کی گئی کہ قطری نیٹ ورکbeIN SPORTS کے چینلوں کی نشریات کی ہیکنگ کا سعودی عرب کے ساتھ تعلق ہے۔ تاہم وہ اس سلسلے میں ایک بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سعودی عرب کے شاہی دفتر کے مشیر سعود القحطانی کی رائٹرز، اے ایف پی اور بلومبرگ نیوز ایجنسیوں کے ساتھ گفتگو کا خلاصہ پیش کر رہا ہے۔ اس بات چیت کے دوران القحطانی نے قطر کی جانب سے اپنے بائیکاٹ کے بحران کو دوسری شکل دینے اور سیاست کو کھیل میں ملوّث کرنے کی ناکام کوششوں کے شواہد کا انکشاف کیا۔

القحطانی کے مطابق قطری حکومت تقریبا سال بھر پہلے بائیکاٹ کے آغاز کے وقت سے ہی روزانہ بے بنیاد الزام تراشی کر رہی ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ ماضی میں وہ امارات اور سعودی عرب کو قطری نیوز ایجنسی کی نام نہاد ہیکنگ کا ذمّے دار ٹھہرا چکی ہے تاہم ایک سال گزرنے کے بعد ابھی تک اس دعوے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

القحطانی نے کہا کہ "درحقیقت قطری حکومت مہذب ممالک کے انداز اور معروف سفارتی اسلوب سے معاملات نمٹانے کی عادی نہیں۔ اس کے پاس میڈیا کے ذریعے غیر مہذّبانہ طور پر الزام تراشی کے سوا کوئی طریقہ نہیں۔ قطری حکام سمجھتے ہیں کہ اس طرح شور مچا کر وہ اپنے بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ پا لیں گے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا بحران باقی ہے اور ان کے الزامات پہلے کی طرح فضا میں دُھول بن کر اڑ جاتے ہیں۔ یہ الزام تراشی قطر کی جانب سے اپنے بائیکاٹ کے مسئلے کا رُخ کھیلوں کی جانب موڑ دینے کی ایک نئی کوشش سے زیادہ کچھ نہیں"۔

سعودی شاہی دفتر کے مشیر کے مطابق مملکت قانونی اقدامات کے ذریعے فکری ملکیت کے حقوق کی عدم خلاف ورزی کو یقینی بناتی ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی معاہدوں پر کاربند ہے۔ سعودی عرب کسی بھی غیر قانونی مواد کو نشر ہونے سے روکنے کے بھرپور کوشش کرتا ہے۔ القحطانی نے بتایا کہ "سعودی عرب میں متعلقہ اداروں نے حالیہ مختصر عرصے کے دوران مقامی مارکیٹوں سے ہیکنگ کے 12000 آلات برآمد کر لیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو گی۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس لیے کہ سعودی حکومت فکری ملکیت اور میڈیا ٹیلی کاسٹ کے حقوق کے تحفظ سے متعلق تمام نظاموں کو لاگو کرنے کی شدید خواہش رکھتی ہے۔ ہیکنگ اور پائریسی کے خلاف جنگ کے حوالے سے سعودی عرب انتہائی سنجیدہ موقف رکھتا ہے"۔

سعودی القحطانی کے مطابق "یہ کہا جا سکتا ہے کہ قطری نیٹ ورکbeIN SPORTS اس وقت کھیلوں سے متعلق اپنی ٹیلی کاسٹ کو سعودی عرب کو ضرر پہنچانے کے واسطے استعمال کر رہا ہے۔ اس کا کھیلوں کو سیاست سے آلودہ کرنا اولمپک اور دیگر بین الاقوامی منشوروں کے کی مخالفت ہے، جیسا کہ روس میں جاری فٹبال عالمی کپ کے افتتاحی میچ کے موقع پر ہوا جب مذکورہ چینل نے سعودی عرب اور قطر کے بیچ سیاسی اختلاف کو شرم ناک انداز سے کھیلوں کے ایونٹ میں گھسانے کی کوشش کی۔

سعودی مشیر نے بتایا کہbeIN SPORTS نے اپنا سابقہ نام "الجزيرة الرياضية" بدل دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کھیلوں کی انجمنوں اور فیڈریشنوں نے چینل کے دہشت گردی کے ساتھ مربوط ہونے کے سبب اس سے معاملات کو مسترد کر دیا۔

سعودی فیڈریشن نے فٹبال کی بین الاقوامی فیڈریشن "فيفا" کوbeIN SPORTS کی طرف سے مملکت اور اس کی قیادت کے خلاف کارستانیوں کی شکایت پیش کی۔ فیڈریشن نے مطالبہ کیا کہ افتتاحی میچ کے موقع پر سیاسی معاملات کو داخل کرنے کے سب beIN SPORTS کی ملکیت رکھنے والی قطری حکومت کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں اور چینل کو حاصل نشریات کے حقوق منسوخ کیے جائیں۔

حالیہ مسائل اور الزام تراشی کی روشنی میں مملکت اور قطر کے درمیان تعلقات کی بہتری کے کسی امکان کے حوالے سے القحطانی کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی طور پر ایسا نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ "قطر نے شدت پسندی اور دہشت گردی کی سپورٹ کے علاوہ دیگر ممالک کے امور میں مداخلت کی روش نہیں بدلی۔ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ وہ ایسی ریاست ہے جو اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کر سکتی۔

سعود القحطانی نے ایک سوال کے جواب میں واضح کیا کہ BeoutQ چینل کی نشریات مملکت سے جاری نہیں ہوتیں، یہ ایک بے بنیاد الزام کے سوا کچھ نہیں۔