.

ٹو میزائل کی تربیت دینے کا ماہر ایرانی جنرل شام میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سرکاری میڈیا نے شام کے شمال مغربی صوبے حلب میں تعینات ایک ایرانی کمانڈر بریگیڈیئر جنرل شاہ رُخ دائی پور کی عراق کی سرحد کے نزدیک جنوب مشرقی علاقے میں ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

ایرانی خبررساں ایجنسی فارس نے ہفتے کی روز اطلاع دی ہے کہ جنرل شاہ رُخ جمعہ کو شام کے جنوب مشرقی قصبے البو کمال میں مارے گئے ہیں لیکن اس نے مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔مقتول جنرل نے 1980ء کے عشرے میں ایران اور عراق کے درمیان لڑی گئی جنگ میں بھی حصہ لیا تھا۔

فارس کے مطابق جنرل شاہ رُخ ٹو میزائلوں اور ٹینک شکن میزائلوں کے استعمال اور تربیت دینے کے ماہر تھے۔ وہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو بھی گذشتہ برسوں کے دوران میں تربیت دیتے رہے تھے۔انھیں ایران کے صوبے کرمان شاہ سے شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں لڑائی میں حصہ لینے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

البوکمال کے محاذ پر لڑائی میں ان کے علاوہ پندرہ اور ایرانی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ان میں زیادہ تر کا تعلق پاسداران انقلاب اور بسیج ملیشیا سے ہے ۔

فارس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جنرل شاہ رُخ داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں ہلاکت ہوئی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر ایرانی کارکنان نے کہا ہے کہ جنرل دائی پور عراق اور شام کے درمیان واقع سرحد ی علاقے پر اسرائیل کے ایک فضائی حملے میں مارے گئے ہیں۔اسرائیلی طیارے نے پاسداران انقلاب ، افغان اور ایرانی ملیشیا کے ٹھکانوں کو حملے میں نشانہ بنایا تھا۔

ایرانی فورسز سنہ 2015ء سے ایرانی، عراقی اور عراقی ،شامی سرحد پر تعینات ہیں تاکہ تہران اور بغداد کے درمیان زمینی گذرگاہ کو محفوظ بنایا جا سکے۔سوشل میڈیا پر کارکنان کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دورا ن میں پاسدارانِ انقلاب ایران کے بیسیوں فوجی اسرائیل کے فضائی حملوں میں مارے گئے ہیں جبکہ ایرانی رجیم نے ان ہلاکتوں کے حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کررکھی ہے۔

داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے بھی شام میں پاسداران انقلاب اور اس کی حامی ملیشیاؤ ں پر فضائی حملے کیے ہیں ۔امریکا کی قیادت میں اس اتحاد نے روس کے شام سے تمام غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کے مطالبے کے بعد سے حملے تیز کررکھے ہیں ۔ رو س کے اب ایران سے شام میں غیرملکی فوجیوں اور ملیشیاؤں کی موجودگی کے مسئلے پر گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں۔