.

خواتین کے گاڑی چلانے کے سعودی معیشت پر مثبت اثرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت کے فیصلے کے اثرات نہ صرف مملکت میں سعودی اور غیر ملکی مقیم خواتین کی سماجی زندگی پر مرتب ہوں گے بلکہ اس فیصلے کے مثبت اثرات سعودی عرب کی معیشت پر بھی پڑیں گے۔

دنیا میں پیشہ ورانہ خدمات سے متعلق دوسری بڑی فرم PWC کے مطابق محنت کی منڈی میں خواتین کے کردار کی مضبوطی خواتین میں بے روزگاری کی شرح کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہو گی جو اس وقت 58% ہے۔ خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت ملنے سے اُن کا اپنے کام کے مقام پر پہنچنا آسان ہو جائے گا۔

مذکورہ فرم کی رپورٹ کے مطابق سال 2020ء تک سعودی عرب میں گاڑی چلانے والی خواتین کی تعداد 30 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ سال 2025ء تک گاڑیوں کی فروخت کی شرح میں سالانہ 9% کا اضافہ ہو گا۔

توقع ہے کہ کرائے پر گاڑیاں لینے کے تناسب میں سالانہ 4% کا اضافہ ہو گا۔ اس کے علاوہ کار انشورنس کی شرح میں سالانہ 9% کا اضافہ ہو گا اور 2025ء تک اس کا حجم 30 ارب ریال تک پہنچ جائے گا۔

ٹرانسپورٹ کی معروف کمپنی "کریم" نے جس کے صارفین میں 70% خواتین ہیں، اس نے 3 ہزار خواتین کا انتخاب کیا ہے۔ یہ خواتین تربیت حاصل کرنے کے بعد کریم کی گاڑیوں کی ڈرائیور بن جائیں گی۔

ادھرGULF TALENT کمپنی کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق رواں برس 82% سعودی خواتین گاڑی چلانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں اُن خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو گا جو ایسے منصبوں پر فائز ہو رہی ہیں جن پر پہلے مردوں کی اجارہ داری تھی۔

گاڑی چلانے کی اجازت ملنے کا فیصلہ بہت سی خواتین کو اپنی رہائش کے مقام سے دور علاقوں میں ملازمت حاصل کرنے میں مدد گار ثابت ہو گا جب کہ ماضی میں ٹرانسپورٹ کی قید کے سبب وہ ان ملازمتوں کے لیے آگے نہیں آیا کرتی تھیں۔

جہاں اس فیصلے سے بہت سے سیکٹروں اور طبقات کو فائدہ پہنچے گا وہاں غیر ملکی ڈرائیورز مشکل سے بھی دوچار ہوں گے۔ تقریبا 35% سعودی گھرانے ان ڈرائیوروں کی خدمات سے بے نیاز ہو جائیں گے جب کہ اتنے ہی خاندان مستقبل میں مماثل اقدام کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کے بعد صرف 31% گھرانے ڈرائیوروں کو باقی رکھیں گے۔

ڈرائیور کی خدمات سے بے نیاز ہونے والے ہر خاندان کو ماہانہ 4 ہزار ریال کی بچت ہو گی۔

خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت کا فیصلہ مملکت کے ویژن 2030 پروگرام کے ساتھ بھی موافقت رکھتا ہے جس کے مرکزی اہداف میں محنت کی منڈی میں خواتین کی شرکت کی شرح 22 % سے بڑھا کر 30% تک پہنچانا شامل ہے۔