.

پابندی کے باوجود 79% ایرانی "ٹیلی گرام" استعمال کر رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکام کی جانب سے سماجی رابطے کی ایپلی کیشن "ٹیلی گرام" پر پابندی کے اعلان کے باوجود ابھی تک 79% ایرانی صارفین پروکسی پروگرامز کے ذریعے اس ایپلی کیشن کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس بات کا انکشاف ایرانی طلبہ کے سروے مرکز(ISPA) کی جانب سے 20 مئی سے 20 جون تک کیے جانے والے سروے کے نتیجے میں ہوا۔

ایرانی نیوز ایجنسی ISNA کے مطابق سروے میں ملک بھر کے صوبوں کے صدر مقامات اور بڑے شہروں میں رہنے والے افراد میں سے 18 برس سے زیادہ عمر کے 4439 افراد کو شامل کیا گیا۔

سروے میں شریک افراد میں سے 62% کا کہنا تھا کہ انہوں پابندی لگنے سے قبل اپریل میں ٹیلی گرام کا استعمال کیا تھا۔ سروے کے مطابق پابندی سے قبل ٹیلی گرام کا استعمال کرنے والے صارفین میں سے 79% نے پابندی لگنے کے بعد بھی اس کا استعمال جاری رکھا۔

دوسری جانب ٹیلی گرام پر پابندی لگنے کے بعد تقریبا دو ماہ سے بھی کم عرصے میں انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے صارفین کی تعداد دو گنا ہو گئی۔

سروے میں بتایا گیا کہ انسٹاگرام کا استعمال کرنے والے 54% ایرانی صارفین کی عمر 18 سے 29 برس ہے۔

ٹیلی گرام اور عوامی احتجاج

ایران کے مختلف صوبوں میں مزدوروں کی جانب سے احتجاجی ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رہنے کے ساتھ ہی ایرانی عدلیہ کے ترجمان غلام حسین محسنی ایجئی نے تین جون کو مطالبہ کیا کہ ایرانی شہریوں کو ٹیلی گرام ایپلی کیشن سے دُور کر دیا جائے۔ اس ایپلی کیشن کو تقریبا 4.5 کروڑ افراد استعمال کر رہے ہیں۔ ایجئی نے دھمکی بھی دی کہ اس فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے کو "فوج داری" کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس سے قبل رواں برس اپریل میں ایرانی صدر حسن روحانی کے نائب اسحاق جہانگیری نے تمام سرکاری اداروں کو بھیجے گئے نوٹیفکیشن میں کہا تھا کہ سماجی رابطوں کی غیر ملکی ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز پر پابندی کے بعد سوشل میڈیا کے مقامی نیٹ ورک پر منتقلی عمل میں لائی جائے۔ ایران کے پراسیکیوٹر جنرل عبدالصمد خرم آبادی نے اعلان کیا تھا کہ ٹیلی گرام پر پابندی کا اطلاق صنعتی سیکٹر اور انجمنوں اور یونینوں پر بھی ہو گا۔

ایرانی حکام غیر ملکی اپیلی کیشنز کو ایرانی مقامی ایپلی کیشنز مثلا "سروش" اور "كب" وغیرہ سے تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ارکان پارلیمنٹ نے اس پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی شہری مقامی ایپلی کیشنز پر انٹیلی جنس اداروں اور پاسداران انقلاب کے کنٹرول کے باعث ان ایپلی کیشنز پر بھروسہ نہیں کرتے۔