اسٹیرنگ سنبھالنے والی سعودی خواتین کی شناخت کے لیے فنگر پرنٹ کا نظام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں محکمہ ٹریفک نے ایک اعلان میں بتایا ہے کہ پولیس اہل کاروں کو ایسے آلات فراہم کیے جائیں گے جن کے ذریعے گاڑی چلانے والی خواتین کی شناخت فنگر پرنٹ کے ذریعے ہو جایا کرے گی اور خواتین کو اپنا چہرہ ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

یہ بات محکمہ ٹریفک کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل محمد البسامی نے اتوار کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "اس مشین میں فنگر پرنٹ اور شناختی کارڈ سمیت محکمے کے ڈیٹا بینک میں موجود تمام معلومات شامل ہوں گی جو گاڑی چلانے والی خاتون کی شناخت کو یقینی بنانے کے واسطے سکیورٹی اہل کار کے سامنے ظاہر ہو جائیں گی"۔

البسامی کے مطابق سعودی عرب میں ٹریفک کا نظام خادمہ کو گاڑی چلانے سے نہیں روکتا تاہم اس سلسلے میں خادمہ کے ویزے کی نوعیت میں اشکال ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے اتوار کے روز ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس میں وزارت داخلہ کے ترجمان بریگڈیئر جنرل منصور الترکی نے بتایا کہ اس وقت ملک میں خواتین کو پیشہ وارانہ انداز میں ڈرائیونگ سکھانے کے لیے چھ تربیتی مراکز قائم کیے جا چکے ہیں جب کہ 1.2 لاکھ خواتین نے تربیت مکمل کرنے کے بعد ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کی خواہاں خواتین کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں