.

اسٹیرنگ سنبھالنے والی سعودی خواتین کی شناخت کے لیے فنگر پرنٹ کا نظام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں محکمہ ٹریفک نے ایک اعلان میں بتایا ہے کہ پولیس اہل کاروں کو ایسے آلات فراہم کیے جائیں گے جن کے ذریعے گاڑی چلانے والی خواتین کی شناخت فنگر پرنٹ کے ذریعے ہو جایا کرے گی اور خواتین کو اپنا چہرہ ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

یہ بات محکمہ ٹریفک کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل محمد البسامی نے اتوار کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "اس مشین میں فنگر پرنٹ اور شناختی کارڈ سمیت محکمے کے ڈیٹا بینک میں موجود تمام معلومات شامل ہوں گی جو گاڑی چلانے والی خاتون کی شناخت کو یقینی بنانے کے واسطے سکیورٹی اہل کار کے سامنے ظاہر ہو جائیں گی"۔

البسامی کے مطابق سعودی عرب میں ٹریفک کا نظام خادمہ کو گاڑی چلانے سے نہیں روکتا تاہم اس سلسلے میں خادمہ کے ویزے کی نوعیت میں اشکال ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے اتوار کے روز ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس میں وزارت داخلہ کے ترجمان بریگڈیئر جنرل منصور الترکی نے بتایا کہ اس وقت ملک میں خواتین کو پیشہ وارانہ انداز میں ڈرائیونگ سکھانے کے لیے چھ تربیتی مراکز قائم کیے جا چکے ہیں جب کہ 1.2 لاکھ خواتین نے تربیت مکمل کرنے کے بعد ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کی خواہاں خواتین کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔