.

ایران : "بازارِ تہران" کی ہڑتال نے شاہ ایران کے سقوط کی یاد دلا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں امریکی ڈالر اور سونے کی قیمتیں ملکی تاریخ میں غیر مسبوق سطح تک بلند ہونے کے بعد دارالحکومت کے وسطی علاقے میں مشہور "بازارِ تہران" میں ہڑتال دیکھنے میں آئی۔ گزشتہ 40 برسوں میں پہلی مرتبہ ایک ڈالر کی قیمت 90 ہزار ایرانی ریال تک پہنچ گئی۔

ایرانی "ریڈیو زمانہ" نے نے میڈیا ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بازار تہران میں پیر کی صبح شروع ہونے والی ہڑتال ڈالر کے مقابل ایرانی کرنسی کی شدید گراوٹ پر احتجاج کے طور پر کی جا رہی ہے۔

ادھر ایرانی صدر حسن روحانی کی ایک تصویر نے ایران میں سوشل میڈیا کے حلقوں کو چراغ پا کر دیا ہے۔ تصویر میں روحانی اسپورٹس ٹریک سوٹ میں دکھائی دے رہے ہیں جس پر ایرانی حلقوں نے روحانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ملک میں غیر مسبوق نوعیت کے حالیہ اقتصادی بحران سے غفلت برت رہے ہیں۔

ڈالر کی قیمت 90 ہزار ریال تک پہنچنے اور روحانی کی مذکورہ تصویر کے پھیل جانے کے چند گھنٹوں بعد سیکڑوں دکان مالکان اور ایرانی شہری احتجاجی مظاہرے کے لیے سڑکوں پر نکل کھڑے ہوئے۔ مظاہرین نے اس موقع پر مختلف سیاسی اور معاشی نعرے بھی لگائے مثلا "شام سے نکلو اور ہمارے حال کی فکر کرو"۔

سوشل میڈیا پر جاری تصاویر اور وڈیو کلپوں میں حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر غصّے میں بپھرے ہوئے مجمعوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

سال 1979ء کی ہڑتال اور شاہ ایران کی حکومت کا سقوط

یاد رہے کہ بازارِ تہران کو ایرانی معیشت کی شہ رگ کہا جاتا ہے۔ سال 1979ء میں اس بازار میں ہونے والی ہڑتال شاہ ایران کی حکومت کے سقوط کے مرکزی عوامل میں سے تھی۔

ادھر دارالحکومت تہران میں مَنی ایکسچینجز نے کرنسی کے شدید اتار چڑھاؤ کے اندیشے کے سبب نقد کرنسی بالخصوص امریکی ڈالر کی خرید و فروخت سے انکار کر دیا ہے۔

بعض ایرانی شہریوں نے سوشل میڈیا پر بتایا ہے کہ قومی کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ روز مرہ کی زندگی کو براہ راست متاثر کر رہی ہے اور غذائی اشیاء کی قیمتیں باقاعدگی کے ساتھ بڑھ رہی ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک ہفتے کے لیے غذائی اشیاء کا ذخیرہ کر رہے ہیں کیوں کہ اس دوران قیمتوں میں اضافے کا اندیشہ ہے۔