حوثی ملیشیا کا اہم کمانڈر مںحرف ہوکر سرکاری فوج میں شامل

الحدیدہ میں شکست نے حوثی باغیوں میں پھوٹ ڈال دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ذرائع ابلاغ کے مطابق یمن کے مغربی ساحلی شہر الحدیدہ میں سرکاری فوج کے ہاتھوں پے درپے شکست کے بعد ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا میں پھوٹ پڑ گئی اور جنگجو مںحرف ہونے کے بعد سرکاری فوج میں شامل ہونے لگے ہیں۔

اخبار ’الشرق الاوسط‘ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے الحدیدہ کے بریگیڈ پانچ کے سربراہ میجنر جنرل سعید ابو بکرالحریری باغیوں سے الگ ہوگئے ہیں اور انہوں نے سرکاری فوج کے ساتھ مل کر لڑنے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر یمن کے عسکری اور طبی ذرائع کے مطابق الحدیدہ میں حوثیوں کا ایک فیلڈ کمانڈر عبدالکریم مروان اپنے کئی ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں نے مغربی ساحلی محاذ پر لرائی کے دوران ہلاک ہونے والے اپنے کئی سرکردہ لیڈروں جن میں کرنل بندر یحییٰ معیض، شرف محمد منصور القحوم اور کئی دوسرے شامل ہیں کی المحویت گورنری میں تدفین کی ہے۔

درایں اثناء یمن کے حوالے سے ایک دوسری پیش رفت کے مطابق اقوام متحدہ کے مندوب مارٹن گریویتھ آج لکسمبرگ میں یورپی یونین کے اجلاس میں یمن سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کرنے والے ہیں۔’العربیہ‘ چینل نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یورپی یونین یمن جنگ ختم کرنے کے لیے’ یو این‘ کے مشن کی حمایت کریں گے۔

توقع ہے کہ لکسمبرگ میں ہونے والے یورپی یونین کے اجلاس میں الحدیدہ میں لڑائی کے دوران فریقین پر شہریوں کی جان ومال کے تحفظ پر زور دیا جائےگا اور متحارب فریقین کو اختلافات مذاکرات کی میز پرحل کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔

ادھر یورپی یونین کی ترجمان مایا کوسیانٹشیٹچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن کا تنازع صرف بات چیت سے حل کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن کے بحران کا کوئی فوجی حل نہیں۔ فریقین کو اقوام متحدہ کی زیرنگرانی مذاکرات کی میز پرآنا ہوگا۔

یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے سرگرم عرب فوجی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اتحاد کے سامنے کئی آپشن ہیں جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں