العربیہ خصوصی رپورٹ: سعودی لیڈی ڈاکٹروں کا "خواتین ایمبولینس" کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی خواتین ڈاکٹروں نے ہنگامی طبّی امداد کے شعبے میں اپنی قابلیت ثابت کر دی ہے۔

ڈاکٹر امل الصليبيخ سعودی عرب کے مشرقی شہر الخبر کے ایک سرکاری ہسپتال میں کام کرتی ہیں۔ مملکت میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت ملنے پر امل نے ایک انسان دوست منصوبے پر عمل درآمد کا سوچا۔ انہوں نے دیگر سعودی خواتین ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر خواتین کے لیے مختص ایمبولینس کے منصوبے کا خیال پیش کیا۔ اس کا مقصد خواتین کو زیادہ خلوت فراہم کرنا تھا۔

اس ایمبولینس کی گاڑی میں کام کرنے والی خواتین ڈاکٹرز اور خواتین ڈرائیورز مشرقی صوبے میں خود کو موصول ہونے والی ریسکیو کالز کا جواب دیتی ہیں۔ اس دوران زخمی یا حاملہ خواتین کو ہسپتال پہنچایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر امل کے مطابق "سعودی معاشرے میں جب خواتین مریض مدد کا مطالبہ کرتی ہیں تو انہیں خلوت اور راحت کی چاہت ہوتی ہے۔ لہذا معاشرے کی ضروت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے خواتین اور بچوں کے لیے مختص ہنگامی خدمات پیش کی جائیں گی۔ اس نئی ایمبولینس کا پورا عملہ صرف خواتین پر مشتمل ہے۔ اس کا مقصد خواتین کو ہنگامی حالت میں فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنا اور ہسپتال پہنچنے سے قبل انہیں طبّی امداد فراہم کرنا ہے"۔

ڈاکٹر امل کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کے شعبے میں کام کرنا چوبیس گھنٹے چوکنا رہنے کا متقاضی ہے۔ امل نے بتایا کہ انہوں نے اس شعبے میں آ کر چیلنجوں کا سامنا کرنا سیکھا۔

ڈاکٹر امل کی ٹیم میں شامل ایک ساتھی ڈاکٹر سکینہ الفرج کہتی ہیں کہ "ہنگامی طبی امداد کا شعبہ خصوصی چیلنجوں سے بھرا ہوا ہے۔ مریض کی جان بچانے میں وقت فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم یہ کردار جلد جوابی ردّ عمل کا مطالبہ کرتا ہے۔ ہنگامی امداد کی ذمّے دار خاتون ڈاکٹر کے کاندھوں پر پیشہ ورانہ اور انسانی مشن ہوتا ہے۔ اسے مریضوں کی ایک بڑی تعداد سے نمٹنا ہوتا ہے۔ انہیں دیکھ بھال اور نگہداشت پیش کرنا ہوتی ہے۔ لہذا خاتون ڈاکٹر کا گاڑی نہ چلانا اس کے لیے ایک قسم کا چیلنج ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں